براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 340

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۴۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جن میں سے ایک یہ ہے کہ اول قتل کیا اور پھر صلیب دیا۔ پس اس مذہب کا بھی ردکرنا ضروری تھا اور ایسے خیال کے لوگوں کا پہلی آیت میں ذکر بھی ہے۔ یعنی اس آیت میں کہ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ پس جب کہ دعوی یہ تھا کہ ہم نے عیسی کو قتل کیا۔ تو ضرور تھا کہ پہلے اسی دعوئی کو رد کیا جاتا۔ لیکن خدا تعالیٰ نے روکو مکمل کرنے کے لئے دوسرے فرقہ کا بھی اس جگہ رد کر دیا جو کہتے تھے کہ ہم نے پہلے صلیب دیا ہے۔ پس اس کے رد کے لئے دور کرتا جو رفع روحانی کے انکار میں ہے اور نیز عیسائیوں کی غلطی کو دور فرما تا پس خدا تعالیٰ نے ایک ایسا جامع لفظ فرمایا جس سے دونوں فریق کی غلطی کو ثابت کر دیا کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ قول کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ اِلَیهِ ۔ صرف یہی ثابت نہیں کرتا کہ مسیح کا رفع روحانی خدا تعالیٰ کی طرف ہو گیا اگر خدا تعالیٰ کی ان آیات میں یعنی بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم عصری دوسرے یا چوتھے آسمان پر پہنچائے گئے تھے تو ہمیں کوئی بتلائے کہ یہودیوں کے اس اعتراض کا کن آیات میں جواب ہے جو وہ کہتے ہیں جو مومنوں کی طرح حضرت عیسی کا رفع روحانی خدا تعالی کی طرف نہیں ہوا۔ یہ تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی جنگ ہے کہ اعتراض تو یہودیوں کا کوئی اور تھا اور جواب کوئی اور دیا گیا۔ گویا خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا منشاء نہیں سمجھا۔ یہودی تو اس بارے میں حضرت عیسی سے کوئی خصوصیت کا معجزہ نہیں چاہتے تھے۔ ان کا تو یہی اعتراض تھا کہ عام مومنوں کی طرح اُن کا رفع نہیں ہوا۔ اور ان کا جواب تو صرف ان الفاظ سے دینا چاہیے تھا کہ ان کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہو گیا ہے۔ پس اگر ممدوحہ بالا آیت کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ آسمان پر بٹھانے کا مطلب ہے تو یہ تو یہودیوں کے اعتراض کا جواب نہیں ہے۔ قرآن شریف کی نسبت یہ خیال که سوال دیگر اور جواب دیگر ایسا خیال تو کفر تک پہنچ جاتا ہے جب کہ قرآن شریف کا یہ بھی منصب ہے کہ یہود کی ان غلط تہمتوں کو دور کرے جو حضرت عیسی پر انہوں نے لگائی تھیں تو منجملہ ان تہمتوں کے یہ بھی یہود کی ایک تہمت تھی کہ وہ حضرت عیسی کے رفع روحانی کے منکر تھے اور اس طور سے نعوذ باللہ ان کو کافر ٹھہراتے تھے۔ پس قرآن شریف کا فرض تھا کہ اس تہمت سے ان کو بری کرتا۔ سواگر ان آیتوں میں اس نے حضرت عیسی کو اس تہمت سے بری نہیں کیا تو قرآن شریف میں سے اور ایسی آیتیں پیش کرنی چاہئیں جن میں اس نے اس تہمت سے حضرت عیسی کو بری کر دیا ہے۔ منہ النساء : ۱۵۸