براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 339
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۳۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم انجیل کے اس فقرہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے قتل کیا پھر کاٹھ پر لٹکایا۔ اور یادر ہے کہ جیسا کہ پادریوں کی عادت ہے انجیلوں کے بعض اردو ترجمہ میں اس فقرہ کو بدلا کر لکھ دیا گیا ہے مگر انگریزی انجیلوں میں اب تک وہی فقرہ ہے جو ابھی ہم نے نقل کیا ہے۔ بہر حال یہ ثابت شدہ امر ہے کہ یہودیوں کے حضرت عیسی کے ہلاک کرنے کے بارے میں دو مذ ہب ہیں۔ اس کے انہوں نے نہایت نادانی ظاہر کی کیونکہ یہودیوں کا یہ تو عقیدہ نہیں کہ جو شخص مع جسم آسمان پر نہ جاوے وہ بے دین اور کافر ہوتا ہے اور اس کی نجات نہیں ہوتی کیونکہ بموجب عقیدہ یہودیوں کے حضرت موسیٰ بھی مع جسم آسمان پر نہیں گئے ۔ یہودیوں کی حجت تو یہ تھی کہ بموجب حکم توریت کے جو شخص کا ٹھ پر لٹکایا جائے اس کی روح آسمان پر اُٹھائی نہیں جاتی کیونکہ صلیب جرائم پیشہ لوگوں کے ہلاک کرنے کا آلہ ہے۔ پس خدا اس سے پاک تر ہے کہ ایک مظہر اور ایسا ہے راستباز مومن کو صلیب کے ذریعہ سے ہلاک کرے سو توریت میں یہی حکم لکھ دیا گیا کہ جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے وہ مومن نہیں اور اس کی روح خدا تعالیٰ کی طرف اٹھائی نہیں جاتی یعنی رفع الی اللہ نہیں ہوتا اور جب کہ مسیح صلیب کے ذریعہ سے ہلاک ہو گیا تو اس سے نعوذ باللہ بقول یہود ثابت ہو گیا کہ وہ ایمان دار نہ تھا۔ اور اس کی روح خدا تعالی کی طرف اٹھائی نہیں گئی۔ پس اس کے مقابل پر یہ کہنا کہ میسج مع جسم آسمان پر چلا گیا یہ حماقت ہے اور ایسے بیہودہ جواب سے یہودیوں کا اعتراض بدستور قائم رہتا ہے کیونکہ ان کا اعتراض رفع روحانی کے متعلق ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف رفع ہو نہ رفع جسمانی کے متعلق جو آسمان کی طرف ہو۔ اور قرآن شریف جو اختلاف نصاری اور یہود کا فیصلہ کرنے والا ہے اس نے اپنے فیصلہ میں یہی فرمایا کہ بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ یعنی خدا نے عیسی کو اپنی طرف اٹھالیا۔ اور ظاہر ہے کہ خدا کی طرف روح اٹھائی جاتی ہے نہ جسم ۔ خدا نے یہ تو نہیں فرمایا کہ بل رفعه الله الى السماء بلکہ فرمایا بَل رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ اور اس مقام میں خدا تعالیٰ کا صرف یہ کام تھا جو یہودیوں کا اعتراض (۱۷۲) ل النسآء: ۱۵۹ حمله از طرف ناشر : - The God of our fathers raised up Jesus, whom Ye slew and hanged on tree۔ Acts 5: 30 (The Holy Bible, King James Version American Bible Society New York)