براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 329
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۲۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۵۰۰۰۰ الاليت شعري هل رؤامن تجسّس من الكذب في امري فكيف تصوّر (11) کاش انہیں سمجھ ہوتی کیا انہوں نے تجس کے بعد میرے کام میں کچھ جھوٹ ثابت کیا پس کیونکر تصو ر کر لیا و إن الورى من كل فج يجيئنى ويسعى الينا كل من كان يُبصر اور مخلوق ہر ایک راہ سے میرے پاس آ رہی ہے اور ہر ایک دیکھنے والا میری طرف دوڑ رہا ہے و كم من عباد اثرونى بصدقهم على النفس حتَّى خُو فَوا ثمّ دُمّروا بہت سے بندے ایسے ہیں جنہوں نے اپنی جان پر مجھ کو اختیار کر لیا یہاں تک کہ ڈرائے گئے پھر قتل کئے گئے و من حزبنا عبد اللطيف فانّه أرَى نور صدق منه خلق تهكروا اپنے صدق کا نور ایسا دکھلایا کہ اُس کے صدق سے لوگ اور ہمارے گروہ میں سے مولوی عبداللطیف ہیں کیونکہ اُس نے حیران ہو گئے عبداللطیف جن کا شعر میں ذکر ہوا ہے وہ صاحبزادہ مولوی عبداللطیف کے نام سے موسوم ہیں اور ملک کابل میں اُن کو شاہزادہ مولوی عبداللطیف بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک بڑے خاندان کے رئیس اور صاحب علم و فضل و کمال تھے۔ اور پچاس ہزار کے قریب ان کے متبعین اور شاگر داور مرید تھے۔ علم حدیث کی تخم ریزی اور اشاعت اس ملک میں مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے بہت سی ہوئی تھی ۔ اور باوجود اس قدر علم اور فضل اور کمال کے جس کی وجہ سے وہ ان ملکوں میں لاثانی شمار کئے جاتے تھے ۔ انکسار اور فروتنی اُن کے مزاج میں اس قدر تھی کہ گویا عجب اور تکبر کی قوت ہی اُن میں پیدا نہیں ہوئی تھی در حقیقت سرزمین کا بل میں (جو سخت دلی اور بے مہری اور تکبر اور نخوت میں مشہور ہے ) ایسے بے نفس اور متواضع اور راستباز انسان کا وجود خارق عادت امر ہے۔ غرض سعادت از لی مولوی صاحب ممدوح کو کشاں کشاں قادیان میں لے آئی اور چونکہ وہ ایک انسان روشن ضمیر اور بے نفس اور فراست صحیحہ سے پورا حصہ رکھتا تھا۔ اور علم حدیث اور علم قرآن سے ایک وہی طاقت ان کو نصیب تھی اور کئی رویائے صالحہ بھی وہ میرے بارے میں دیکھ چکے تھے اس لئے ایک چہرہ دیکھتے ہی مجھے انہوں نے قبول کر لیا اور کمال انشراح سے میرے دعوی مسیح موعود ہونے پر ایمان لائے اور جان نثاری کی شرط پر بیعت کی۔ اور ایک ہی صحبت میں ایسے ہو گئے کہ گویا سالہا سال سے میری صحبت میں تھے اور نہ صرف اس قدر بلکہ الہام الہی کا سلسلہ بھی اُن پر جاری ہو گیا اور واقعات صحیحہ اُن پر وارد ہونے لگے اور ان کا دل ماسوا اللہ کے بقایا سے بکلی دھویا گیا۔ پھر وہ اس جگہ سے