براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 313 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 313

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۱۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس قدر لمبا ہو گیا کہ جو لوگ میرے دعوے کے ابتدائی زمانہ میں ابھی پیٹ میں تھے اُن کی اولا د بھی جوان ہو گئی مگر آپ لوگوں کو ابھی سمجھ نہ آیا کہ میں صادق ہوں۔ بار بار یہی کہتے ہیں کہ ہم تم کو اس وجہ سے نہیں مانتے کہ ہماری حدیثوں میں لکھا ہے کہ میں دجال آئیں گے۔ اے بد قسمت قوم! کیا تمہارے حصہ میں دجال ہی رہ گئے ۔ تم ہر ایک طرف سے اس طرح تباہ کئے گئے جس طرح ایک کھیتی کو رات کے وقت کسی اجنبی کے مویشی تباہ کر دیتے ہیں۔ تمہاری اندرونی حالتیں بھی بہت خراب ہو گئیں اور بیرونی حملے بھی انتہا کو پہنچ گئے۔ صدی کے سر پر جو مجدد آیا کرتے تھے وہ بات شائد نعوذ باللہ خدا کو بھول گئی کہ اب کی دفعہ اگر صدی کے سر پر بھی آیا تو بقول تمہارے ایک دجال آیا ۔ تم خاک میں مل گئے مگر خدا نے تمہاری خبر نہ لی۔ تم بدعات میں ڈوب گئے مگر خدا نے تمہاری دستگیری نہ کی ۔ تم میں سے روحانیت جاتی رہی صدق وصفا کی بو نہ رہی۔ سچ کہو اب تم میں روحانیت کہاں ہے خدا کے تعلقات کے نشان کہاں۔ دین تمہارے نزدیک کیا ہے صرف زبان کی چالا کی اور شرارت آمیز جھگڑے اور تعصب کے جوش اور اندھوں کی طرح حملے ۔ خدا کی طرف سے ایک ستارہ نکلا مگر تم نے اس کو شناخت نہ کیا اور تم نے تاریکی کو اختیار کیا اس لئے خدا نے تمہیں تاریکی میں ہی چھوڑ دیا۔ اب اس صورت میں تم میں اور غیر قوموں میں فرق کیا ہے۔ کیا ایک اندھا اندھوں میں بیٹھ کر کہہ سکتا ہے کہ تمہاری حالت سے میری حالت بہتر ہے۔ اے نادان قوم ! میں تمہیں کس سے مشابہت دوں۔ تم ان بدقسمتوں سے مشابہ ہو جن کے گھر کے قریب ایک فیاض نے ایک باغ لگایا اور اس میں ہر ایک قسم کا پھلدار درخت نصب کیا اور اس کے اندر ایک شیریں نہر چھوڑ دی جس کا پانی نہایت میٹھا تھا۔ اور اُس باغ میں بڑے بڑے سایہ دار درخت لگائے جو ہزاروں انسانوں کو دھوپ سے بچا سکتے تھے تب اس قوم کی اُس فیاض نے دعوت کی جو دھوپ میں جل رہی تھی اور کوئی سایہ نہ تھا۔اور نہ کوئی پھل تھا اورنہ پانی تھا تا وہ سایہ میں بیٹھیں اور ۱۳۶۶