براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 307

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۳۰۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم تو یہ معنے حضرت عیسی پر بھی صادق نہیں آئیں گے کیونکہ وہ شریعت محمدیہ کو منسوخ نہیں کر سکتے ۔ اُن پر کوئی ایسی وحی نازل نہیں ہو سکتی جو قرآن شریف کو منسوخ کرے بلکہ ان کے دوبارہ لانے سے یہ وہم گذرتا ہے کہ شاید ان کے ذریعہ سے شریعت اسلامیہ میں کچھ تبدیل و ترمیم کیا جائے گا۔ ورنہ اگر نبی کے صرف یہ معنے کئے جائیں کہ اللہ جل شانہ اس سے مکالمہ و مخاطبہ رکھتا ہے اور بعض اسرار غیب کے اُس پر ظاہر کرتا ہے تو اگر ایک امتی ایسا نبی ہو جائے تو اس میں حرج کیا ہے خصوصاً جب کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اکثر جگہ یہ امید دلائی ہے کہ ایک امتی شرف مکالمہ الہیہ سے مشرف ہو سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کو اپنے اولیاء سے مکالمات اور مخاطبات ہوتے ہیں بلکہ اسی نعمت کے حاصل کرنے کے لئے سورۃ فاتحہ میں جو پنج وقت فریضہ نماز میں پڑھی جاتی ہے یہی دعا سکھلائی گئی ہے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ تو کسی امتی کو اس نعمت کے حاصل ہونے سے کیوں انکار کیا جاتا ہے۔ کیا سورۃ فاتحہ میں وہ نعمت جو خدا تعالی سے مانگی گئی ہے جو نبیوں کو دی گئی تھی وہ درہم و دینار ہیں۔ ظاہر ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ کی نعمت ملی تھی جس کے ذریعہ سے اُن کی معرفت حق الیقین کے مرتبہ تک پہنچ گئی تھی اور گفتار کی تجلی دیدار کے قائم مقام ہو گئی تھی۔ پس یہ جو دعا کی جاتی ہے کہ اے خداوند وہ راہ ہمیں دکھا جس سے ہم بھی اُس (۱۴۰) نعمت کے وارث ہو جائیں اس کے بجز اس کے اور کیا معنے ہیں کہ ہمیں بھی شرف مکالمہ اور مخاطبہ بخش۔ بعض جاہل اس جگہ کہتے ہیں کہ اس دعا کے صرف یہ معنے ہیں کہ ہمارے ایمان قومی کر اور اعمال صالحہ کی توفیق عطا فرما اور وہ کام ہم سے کرا جس سے تو راضی ہو جائے ۔ مگر یہ نادان نہیں جانتے کہ ایمان کا قوی ہونا یا اعمال صالحہ کا بجالانا اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق قدم اٹھانا یہ تمام باتیں معرفت کا ملہ کا نتیجہ ہیں ۔ جس دل کو خدا تعالی کی معرفت میں سے کچھ حصہ نہیں ملا وہ دل ایمان قوی اور اعمال صالحہ سے بھی بے نصیب ہے۔ معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اور معرفت سے ہی خدا تعالیٰ کی محبت دل میں جوش