براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 297
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بلکہ وحی الہی کی روشنی نے جو آفتاب کی طرح میرے پر چپکی ہے یہ ایمان مجھے عطا فر مایا ہے۔ جس یقین کو خدا نے خارق عادت نشانوں کے تواتر اور معارف یقینیہ کی کثرت سے اور ہر روزہ یقینی مکالمہ اور مخاطبہ سے انتہا تک پہنچا دیا ہے اس کو میں کیونکر اپنے دل میں سے باہر نکال دوں ۔ کیا میں اس نعمت معرفت اور علم صیح کورڈ کر دوں جو مجھ کو دیا گیا ہے۔ یا وہ آسمانی نشان جو مجھے دکھائے جاتے ہیں میں اُن سے منہ پھیر لوں یا میں اپنے آقا اور اپنے مالک کے حکم سے سرکش ہو جاؤں کیا کروں مجھے ایسی حالت سے ہزار دفعہ مرنا بہتر ہے کہ وہ جو اپنے حسن و جمال کے ساتھ میرے پر ظاہر ہوا ہے میں اس سے برگشتہ ہو جاؤں۔ یہ دنیا کی زندگی کب تک اور یہ دنیا کے لوگ مجھ سے کیا وفاداری کریں گے تا میں ان کے لئے اُس یار عزیز کو چھوڑ دوں ۔ میں خوب جانتا ہوں کہ میرے مخالفوں کے ہاتھ میں محض ایک پوست ہے جس میں کیڑا لگ گیا ہے۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ میں مغز کو چھوڑ دوں اور ایسے پوست کو میں بھی اختیار کرلوں۔ مجھے ڈراتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ لیکن مجھے اُسی عزیز کی قسم ہے جس کو میں نے شناخت کر لیا ہے کہ میں ان لوگوں کی دھمکیوں کو کچھ بھی چیز نہیں سمجھتا۔ مجھے اس کے ساتھ غم بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ دوسرے کے ساتھ خوشی ہو مجھے اس کے ساتھ موت بہتر ہے بہ نسبت اس کے کہ اُس کو چھوڑ کر لمبی عمر ہو۔ جس طرح آپ لوگ دن کو دیکھ کر اُس کو رات نہیں کہہ سکتے ۔ اسی طرح وہ نور جو مجھ کو دکھایا گیا میں اس کو تاریکی نہیں خیال کر سکتا۔ اور جب کہ آپ اپنے ان عقائد کو چھوڑ نہیں سکتے جو صرف شکوک اور تو ہمات کا مجموعہ ہے تو میں کیونکر اُس راہ کو چھوڑ سکتا ہوں جس پر ہزار آفتاب چمکتا ہوا نظر آتا ہے۔ کیا میں مجنون یا دیوانہ ہوں کہ اُس حالت میں جب کہ خدا تعالیٰ نے مجھے روشن نشانوں کے ساتھ حق دکھا دیا ہے پھر بھی میں حق کو قبول نہ کروں ۔ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ ہزار ہا نشان میرے اطمینان کے لئے میرے پر ظاہر ہوئے ہیں جن میں سے بعض کو میں نے لوگوں کو بتایا اور بعض کو بتایا بھی نہیں اور میں نے دیکھا کہ یہ نشان