براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 296

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کی کتابوں میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت لکھا ہوا پاتے ہیں۔ مگر میں آپ کو نیک صلاح دیتا ہوں کہ درندگی کا طریق چھوڑ کر اب بھی آپ میری نسبت تحقیقات کر لیں ۔ اول منقولی طور پر مجھ سے ثبوت لے لیں کہ کیا یہ ضروری نہیں کہ اس اُمت کا مسیح اسی امت میں سے ہونا چاہیے اور پھر دوسرے یہ دیکھ لیں کہ کس قدر میرے دعوے کی تائید میں مجھے سے نشان ظاہر ہوئے ہیں اور جو کچھ کہا جاتا ہے کہ فلاں پیشگوئی پوری نہ ہوئی۔ پیمحض افترا ہے بلکہ تمام پیشگوئیاں پوری ہوگئیں اور میری کسی پیشگوئی پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہو سکتا جو پہلے نبیوں کی پیشگوئیوں پر جاہل اور بے ایمان لوگ نہیں کر چکے۔ اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ میرے ساتھ آپ کا مقابلہ تقویٰ سے بعید ہے کیونکہ آپ لوگوں کی دستاویز صرف وہ حدیثیں ہیں جن میں سے کچھ موضوع اور کچھ ضعیف اور کچھ ان میں سے ایسی ہیں جن کے معنے آپ لوگ سمجھتے نہیں ۔ مگر آپ کے مقابل پر میرا دعویٰ علی وجہ البصیرت ہے اور جس وجی نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں اور آنے والا مسیح موعود یہی عاجز ہے اُس پر میں ایسا ہی ایمان رکھتا (۱۳۰) ہوں جیسا کہ میں قرآن شریف پر ایمان رکھتا ہوں۔ اور یہ ایمان صرف حسن اعتقاد سے نہیں جس حالت میں قرآن شریف یعنی آیت فلما توقیتی سے حضرت عیسی کی وفات ثابت ہے اور صحیح بخاری میں ابن عباس سے مُتوفیک کے یہ معنے لکھے ہیں کہ مُمیتک اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی فوز الکبیر میں متوفیک کے معنے ممیتک لکھتے ہیں اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ رفع توفی کے بعد ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ن نہیں فرماتا کہ یا عیسی اني رافعک الی و متوفیک ۔ اور اپنی طرف سے قرآن شریف کے لفظوں کو ان کے مواضع سے پھیر نا اس آیت کا مصداق بننا ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهِ اور کوئی حدیث صحیح ثابت نہیں ہوئی کہ جو اجازت دیتی ہو کہ اس آیت میں رافعک پہلے ہے اور متو فیک بعد میں ۔ اس صورت میں حضرت عیسی کی وفات سب طرح سے ثابت ہے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آنے والا عیسی امتی ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ اِمَامُكُم مِنكُم اور مسلم میں ہے کہ آمَكُمْ مِنْكُمْ - منه ال عمران :۵۶ المائدة : ۱۴