براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 6 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 6

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۶ دیباچہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بار یک بین نہیں ہے کہہ سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ ایک کامل تعلیم بھی ہو اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو۔ پس اگر چہ یہ دلیل ایک دانا طالب حق کو بہت سے شکوک سے مخلصی دے کر یقین کے نزدیک کر دیتی ہے لیکن تاہم جب تک دوسری دلیل مذکورہ بالا اس کے ساتھ منضم اور پیوستہ نہ ہو کمال یقین کے مینار تک نہیں پہنچا سکتی اور ان دونوں دلیلوں کے اجتماع سے بچے مذہب کی روشنی کمال تک پہنچ جاتی ہے اور اگر چہ سچاند ہب ہزار ہا آثار اور انوار اپنے اندر رکھتا ہے لیکن یہ دونوں دلیلیں بغیر حاجت کسی اور دلیل کے طالب حق کے دل کو یقین کے پانی سے سیراب کر دیتی ہیں اور مکذبوں پر پورے طور پر اتمام حجت کرتی ہیں۔ اس لئے ان دو قسم کی دلیلوں کے موجود ہونے کے بعد کسی اور دلیل کی حاجت نہیں رہتی۔ اور میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیت اسلام کے لئے تین سو دلیل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں ۔ پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔ اگر میں کتاب براہین احمدیہ کے پورا کرنے میں جلدی کرتا تو ممکن نہ تھا کہ اس طریق سے اسلام کی حقانیت لوگوں پر ظاہر کر سکتا۔ کیونکہ براہین احمدیہ کے پہلے حصوں میں بہت سی پیشگوئیاں ہیں جو اسلام کی سچائی پر قوی دلیل ہیں مگر ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ خدا تعالیٰ کے وہ موعودہ نشان کھلے کھلے طور پر دنیا پر ظاہر ہوتے ۔ ہر ایک دانشمند سمجھ سکتا ہے کہ معجزات اور نشانوں کا لکھنا انسان کے اختیار میں نہیں اور دراصل یہی ایک بڑا ذریعہ سچے مذہب کی شناخت کا ہے کہ اس میں برکات اور معجزات پائے جائیں کیونکہ جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے صرف کامل تعلیم کا ہونا بچے مذہب کے لئے پوری پوری اور کھلی کھلی علامت نہیں ہے جو تسلی کے انتہائی درجہ تک پہنچا سکے۔ سو میں انشاء اللہ تعالیٰ