براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 290
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۹۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سے بہت جھگڑا کیا تھا اور اُن کو بے دین اور کافر اور ملحد ٹھہرایا تھا اسی طرح حضرت عیسی کے دوبارہ آنے میں ان لوگوں کا مجھ سے بھی جھگڑا ہوتا۔ یہ نادان سمجھتے نہیں کہ جس شخص کے دوبارہ آنے کے لئے روتے اور مجھے گالیاں نکالتے ہیں وہی میرے دعوی کی اُن پر ڈگری کرتا ہے کیونکہ بعینہ اس بیان کے مطابق جو حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کے بارہ میں میں ان لوگوں کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہی بیان حضرت عیسی کا یہودیوں کے سامنے تھا۔ اور جس طرح خدا نے میرا نام عیسی رکھا ہے اسی طرح خدا نے بیٹی نبی کا نام الیاس رکھ دیا تھا۔ اور یہی نظیر جو مذکور ہو چکی ہے ایک ایماندار کے لئے تسلی بخش ہے۔ اور خدا بھی تو فرماتا ہے۔ فَتَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ اور یہودی تو ایک درجہ تک معذور بھی تھے کیونکہ یہودیوں کے زمانہ میں ابھی کسی (۱۲۳) انسان کے دوبارہ آنے میں خدا تعالیٰ کی کتابوں میں فیصلہ نہیں ہوا تھا مگر اب تو فیصلہ ہو چکا کیا الیاس نبی ملا کی نبی کی پیشگوئی کے مطابق دوبارہ دنیا میں آگیا تا یہ لوگ بھی حضرت عیسی کے دوبارہ آنے کی امید رکھیں۔ اور حیح حدیثوں میں تو دوبارہ آنے کا کوئی لفظ بھی نہیں صرف نزول کا لفظ ہے جو محض اجلال اور اکرام کے لئے آتا ہے۔ ہر ایک عزیز مہمان کی نسبت کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ تشریف لائیں گے تو ہمارے ہاں اُتریں گے تو کیا اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے واپس آئیں گے۔ واپس آنے کے لئے عربی زبان میں رجوع کا لفظ ہے نہ نزول کا۔ بڑا افسوس ہے کہ ناحق یہ عقیدہ جو عیسائی مذہب کو مدد دیتا ہے مسلمان کہلانے والوں کے گلے کا ہار ہو گیا۔ ہمارے مخالف سخت شرمندہ اور لاجواب ہو کر آخر کو یہ عذر پیش کر دیتے ہیں کہ ہمارے بزرگ ایسا ہی کہتے چلے آئے ہیں۔ نہیں سوچتے کہ وہ بزرگ معصوم نہ تھے بلکہ جیسا کہ یہودیوں کے بزرگوں نے پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ٹھوکر کھائی ان بزرگوں نے بھی ٹھوکر کھالی اور خدا تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت سے ایسا ہی ایک غلط عقیدہ اُن میں شائع ہو گیا جیسا کہ یہود میں یہ عقیدہ شائع ہو گیا تھا کہ الیاس نبی دوبارہ آسمان سے نازل ہوگا اور یہود کے بزرگ بڑی محبت اور شوق سے الیاس نبی کے دوبارہ آنے کے منتظر تھے اُن کی نظموں اور نثروں میں بڑے درد اور الانبياء : ٨