براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 280
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۸۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا اگر یہ بات ہوتی کہ براہین احمدیہ کی اُن پیشگوئیوں کی وہ حقیقت جو ۴ / اپریل ۱۹۰۵ء کے زلزلہ کے بعد میرے پر کھل گئی براہین احمدیہ کی اشاعت کے زمانہ میں ہی مجھے معلوم ہوتی تو اگر چہ میں اس کی اشاعت کے لئے مامورنہ تھا تا ہم میں نوع انسان کی ہمدردی کے لئے جہاں تک مجھ سے ممکن ہوتا اس کی اصل حقیقت سے لوگوں کو اطلاع دیتا۔ قوله - یہ عجیب عذر گناہ بدتر از گناہ ہے کہ پیشگوئیوں کے معنے سمجھنے میں عوام تو عوام ابنیاء علیہم السلام بھی اجتہاد کے وقت غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ اقول ۔ انہیں باتوں سے تو آپ کا خیانت پیشہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ میں خوب جانتا ہوں کہ آپ شیر خوار بچہ نہیں آپ علم حدیث سے ایسے جاہل نہیں جن کو اول نمبر کے جاہل کہنا چاہیے۔ آپ ایسے مجنون نہیں جن کے حواس بالکل قائم نہیں ہوتے ۔ تو پھر یہ خیانت ہے یا کوئی اور بات ہے کہ آپ اس سے انکار کرتے ہیں کہ ابنیاء علیہم السلام سے کوئی غلطی اجتہادی طور پر نہیں ہو سکتی سب جانتے ہیں کہ بیشک غلطی ہوسکتی ہے۔ مگر وہ ہمیشہ اس غلطی پر قائم نہیں رکھے جا سکتے۔ میں اس بارے میں بھی اسی ضمیمہ میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں ۔ اعادہ کی ضرورت نہیں ہے۔ قوله کسی پیشگوئی کے جھوٹے ہونے کا الزام جب آپ پر قائم ہوتا ہے تو اس الزام کو اسی اصول سے اٹھا دیا جاتا ہے۔ ا قول ۔ اے مولوی صاحب خدا آپ کو ہدایت کرے اور وہ دن لاوے کہ آپ کی آنکھیں کھلیں ۔ آپ اس شخص کی طرح جس کی گردن کے پیچھے بہت بڑا پھوڑا ہو اور اس وجہ سے وہ ہمیشہ زمین کی طرف جھکا ر ہے آسمان کی طرف نظر نہ اٹھا سکے آسمانی انوار سے محروم ہیں اور اُن سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے ۔ اب تک دس ہزار سے بھی زیادہ خدا تعالیٰ میری تائید میں نشان ظاہر کر چکا ہے جو روز روشن کی طرح پورے ہو گئے ہیں مگر آپ کے نزدیک ہر ایک پیشگوئی جھوٹی نکلتی رہی ہے اور گویا میں جھوٹ کو سچ بنانے البقرة : ۲۸۷