براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 261 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 261

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ ہر ایک انسان کا بچہ جو پیٹ میں ہو نو ماہ اور دین دن تک ضرور پیدا ہو جاتا ہے لیکن تاہم اُس کے پیدا ہونے کی گھڑی خاص معلوم نہیں۔ اسی طرح قیامت بھی سات ہزار برس تک آجائے گی ۔ مگر اُس کے آنے کی گھڑی خاص معلوم نہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ سات ہزار پورا ہونے کے بعد دو تین صدیاں بطور کسور کے زیادہ ہو جائیں جو شمار میں نہیں آسکتیں۔ اور معترض کا یہ دوسرا اعتراض کہ یہ دعویٰ نہیں کیا گیا کہ در حقیقت زلزلہ ہے۔ یہ اعتراض بھی قلت فہم سے ناشی ہوا ہے کیونکہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ ظاہر الفاظ وحی سے زلزلہ ہی معلوم ہوتا ہے اور اغلب اکثر یہی ہے کہ وہ زلزلہ ہے اور پہلا زلزلہ اس پر شہادت بھی دیتا ہے اور قرآن شریف کی یہ آیت بھی اس کی مؤید ہے کہ یوم تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ مگر تا ہم خدا تعالی کی کتا بیں بھی اس طرف ہمیں توجہ دلاتی ہیں کہ کبھی ایسی پیشگوئیاں استعارہ کے طور پر بھی پوری ہوتی ہیں مگر خارق عادت ہونے کا رنگ اور غیر معمولی حادثہ ہونے کا رنگ اُن میں باقی رہتا ہے اور ہماری رائے تو یہی ہے کہ تو میں سے نوے وجوہ تو یہی بتلاتی ہیں کہ حقیقت میں وہ زلزلہ ہے نہ اور کچھ۔ کیونکہ اس میں زمین کی جنبش اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا بھی ذکر ہے یہ تو ہمارا اجتہاد ہے اور بعد اس کے خدا تعالیٰ کے اسرار مخفی کو خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے اور ممکن ہے کہ آگے چل کر وہ اس سے زیادہ ہم پر کھول دے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اور آپ کا یہ کہنا کہ حضرت عیسی نے اپنی پیشگوئیوں میں جن زلزلوں کا ذکر کیا تھا اُن کی انہوں نے کوئی تاویل نہیں کی اس لئے وہ پیشگوئیاں ایک تعین اپنے اندر رکھتی ہیں۔ یہ آپ کا عجیب قول ہے اور عجیب رائے ۔ ظاہر ہے کہ ان پیشگوئیوں میں حضرت عیسی نے کسی ہولناک اور مہلک اور خارق عادت زلزلہ کا ذکر نہیں کیا۔ جس ملک میں حضرت عیسی اس دن زمین سخت حرکت اضطرابی کرے گی۔ اور اس کے بعد ایک اور حرکت اضطرابی ہوگی یعنی قیامت کے نزدیک دو سخت زلزلے آئیں گے۔ پہلے کے بعد دوسرا زلزلہ آئے گا۔ منہ النازعات : ۸،۷