براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 260 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 260

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۶۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو مسیح موعود چھٹے ہزار کے اخیر پر قائم ہونا تھا وہ قائم ہو چکا ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ قیامت کی گھڑی معلوم نہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ خدا نے قیامت کے بارے میں انسان کو کوئی اجمالی علم بھی نہیں دیا ور نہ قیامت کے علامات بھی بیان کرنا ایک لغو کام ہو جاتا ہے کیونکہ جس چیز کو خدا تعالیٰ اس طرح پر مخفی رکھنا چاہتا ہے اُس کے علامات بیان کرنے کی بھی کیا ضرورت ہے بلکہ ایسی آیات سے مطلب یہ ہے کہ قیامت کی خاص گھڑی تو کسی کو معلوم نہیں مگر خدا نے حمل کے دنوں کی طرح انسانوں کو اس قدر علم دے دیا ہے کہ ساتویں ہزار کے گذرنے تک اس زمین کے باشندوں پر قیامت آجائے گی۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے خدا نے آدم کو چھٹے دن بروز جمعہ بوقت عصر پیدا کیا۔ توریت اور قرآن اور احادیث سے یہی ثابت ہے اور خدا نے انسانوں کے لئے سات دن مقرر کئے ہیں ۔ اور ان دنوں کے مقابل پر خدا کا ہر ایک دن ہزار سال کا ہے۔ اس کی رو سے استنباط کیا گیا ہے کہ آدم سے عمر دنیا کی سات ہزار سال ہے اور چھٹا ہزار جو چھٹے دن کے مقابل پر ہے وہ آدم ثانی کے ظہور کا دن ہے۔ یعنی مقدر یوں ہے کہ چھٹے ہزار کے اندر دینداری کی روح دنیا سے مفقود ہو جائے گی اور لوگ سخت غافل اور بے دین ہو جائیں گے۔ تب انسان کے روحانی سلسلہ کو قائم کرنے کے لئے مسیح موعود آئے گا۔ اور وہ پہلے آدم کی طرح ہزار ششم کے اخیر میں جو خدا کا چھٹا دن ہے ظاہر ہوگا۔ چنانچہ وہ ظاہر ہو چکا اور وہ وہی ہے جو اس وقت اس تحریر کی رو سے تبلیغ حق کر رہا ہے۔ میرا نام آدم رکھنے سے اس جگہ یہ مقصود ہے کہ نوع انسان کا فرد کامل آدم سے ہی شروع ہوا اور آدم سے ہی ختم ہوا کیونکہ اس عالم کی وضع ذوری ہے اور دائرہ کا کمال اسی میں ہے کہ جس نقطہ سے شروع ہوا ہے اُسی نقطہ پر ختم ہو جائے ۔ پس خاتم الخلفاء کا آدم نام رکھنا ضروری تھا اور اسی وجہ سے جیسا کہ آدم تو ام پیدا ہوا تھا میری پیدائش بھی تو ام ہے اور جس طرح آدم جمعہ کے روز پیدا ہوا تھا میں بھی جمعہ کے دن ہی پیدا ہوا تھا اور جس طرح آدم کی نسبت فرشتوں نے اعتراض کیا میری نسبت بھی وہ وحی الہی نازل ہوئی جو یہ ہے۔ قالوا اتـجـعـل فيها من يفسد فيها۔ قال اني اعلم ما لا تعلمون ۔ اور جس طرح آدم کے لئے سجدہ کا حکم ہوا۔ میری نسبت بھی وحی الہی میں یہ پیشگوئی ہے۔ يَخِرُّون على الاذقان سُجَّدًا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا إِنَّا كُنَّا خاطئين۔ منه