براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 259
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم لیکن پیشگوئی کا مطلب یہ نہیں کہ پورے سولہ سال تک ظہور اس پیشگوئی کا معرض التوا میں رہے گا بلکہ ممکن ہے کہ آج سے ایک دو سال تک یا اس سے بھی پہلے یہ پیشگوئی ظہور میں آجائے ۔ اور نہ خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ میری عمرانی سال سے ضر ور زیادہ ہو جائے گی بلکہ اس بارے میں جو فقرہ وحی الہی میں درج ہے اس میں مخفی طور پر ایک امید دلائی گئی ہے کہ اگر خدا تعالیٰ چاہے تو اشی برس سے بھی عمر کچھ زیادہ ہوسکتی ہے اور جو ظا ہر الفاظ وحی کے وعدہ کے متعلق ہیں وہ تو چہرے اور چھیاسی کے اندر اندر عمر کی تعیین کرتے ہیں۔ بہر حال یہ میرے پر تہمت ہے کہ میں نے اس پیشگوئی کے زمانہ کی کوئی بھی تعیین نہیں کی ۔ اور خدا تعالیٰ بار بار اپنی وحی میں فرما رہا ہے کہ ہم تیرے لئے یہ نشان دکھلائیں گے ۔ اور ان کو کہہ دے کہ یہ نشان میری سچائی کا گواہ ہوگا ۔ میں تیرے لئے اتروں گا اور تیرے لئے اپنے نشان دکھلاؤں گا۔ میں اُس وقت تیرے پاس اپنی فوجیں لے کر آؤں گا جب کہ کسی کو خبر نہیں ہوگی اور اس وقت کو کوئی نہیں جانتا مگر خدا۔ اور جیسا کہ موسیٰ کے زمانہ میں ہوا کہ فرعون اور (۹۸) ہامان اُس وقت تک دھوکا میں رہے جب تک کہ رود نیل کے طوفان نے ان کو پکڑا ایسا ہی اب بھی ہوگا۔ اور پھر فرمایا کہ تو میری آنکھوں کے سامنے کشتی طیار کر اور ظالم لوگوں کی سفارش مت کر ۔ اور اُن کا شفیع مت بن کہ میں اُن سب کو غرق کروں گا۔ ایسا ہی اور صریح الہامات الہی ہیں اور سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی زمانہ میں ظہور میں آئے گی اور اس کی یہ حد ہے جو معین اور مقرر ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی ۔ مگر نہیں معلوم کہ وہ مہینوں کے بعد ظہور میں آئے گی یا ہفتوں کے بعد یا برسوں کے بعد ۔ بہر حال وہ سولہ سال سے تجاوز نہیں کرے گی ۔ یہ ایسی ہی بات ہے جیسا کہ استنباط آیات قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ دُنیا کی عمر حضرت آدم سے لے کر سات ہزار سال ہے۔ اور اس میں سے ہمارے زمانہ تک چھ ہزار برس گزر چکے ہیں ۔ جیسا کہ اعداد سورۃ والعصر سے معلوم ہوتا ہے۔ اور بموجب حساب قمری کے اب ہم ساتویں ہزار میں ہیں ۔ اور ۶۰۰۰