براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 258
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بارے میں اس قدر کافی سمجھا گیا ہے کہ وہ خارق عادت اور انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں یا یہ کہ کسی ایسے غیب پر مشتمل ہوں جو انسانی پیش بینی سے بلند تر ہو ۔ جب ایک پیشگوئی خارق عادت کے طور پر بیان کی جائے جس کے بیان کرنے کے وقت کسی عقل اور فہم کو یہ خیال نہ ہو کہ ایسا امر ہونے والا ہے اور صریح وہ ایک غیر معمولی بات ہو جس کی گذشتہ صد ہا سال میں کوئی نظیر نہ پائی جائے اور نہ آئندہ اس کے ظہور کے لئے آثار ظاہر ہوں اور وہ پیشگوئی سچی نکلے تو ۹۷ عقلِ سلیم حکم دیتی ہے کہ ایسی پیشگوئی ضرور منجانب اللہ مجھی جائے گی ورنہ تمام نبیوں کی پیشگوئیوں سے انکار کرنا پڑے گا۔ اب ذرہ کان کھول کر سُن لو کہ آئندہ زلزلہ کی نسبت جو میری پیشگوئی ہے اُس کو ایسا خیال کرنا کہ اُس کے ظہور کی کوئی بھی حد مقرر نہیں کی گئی یہ خیال سراسر غلط ہے کہ جو محض قلتِ تدبر اور کثرت تعصب اور جلد بازی سے پیدا ہوا ہے۔ کیونکہ بار با روحی الہی نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وہ پیشگوئی میری زندگی میں اور میرے ہی ملک میں اور میرے ہی فائدہ کے لئے ظہور میں آئے گی۔ اور اگر وہ صرف معمولی بات ہو جس کی نظیر میں آگے پیچھے صدہا موجود ہوں اور اگر کوئی ایسا خارق عادت امر نہ ہو جو قیامت کے آثار ظاہر کرے تو پھر میں خود اقرار کرتا ہوں کہ اس کو پیشگوئی مت سمجھو۔ اس کو بقول اپنے تمسخر ہی سمجھ لو ۔ اب میری عمر ستر برس کے قریب ہے اور تین برس کی مدت گذرگئی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمراشی برس کی ہوگی اور یا یہ کہ پانچ چھ سال زیادہ یا پانچ چھ سال کم ۔ پس اس صورت میں اگر خدا تعالیٰ نے اس آفت شدیدہ کے ظہور میں بہت ہی تاخیر ڈال دی تو زیادہ سے زیادہ سولہ سال ہیں اس سے زیادہ نہیں کیونکہ ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آ جائے خدا تعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے ۔ پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی“۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار کے دن ہوں گے۔ اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالبا وہ صبح کا وقت ہوگا یا اس کے قریب اور غالباً وہ وقت نزدیک ہے جب کہ وہ پیشگوئی ظہور میں آ جائے اور ممکن ہے کہ خدا اس میں کچھ تاخیر ڈال دے۔ منہ