براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 257 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 257

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مگر چونکہ زمین کا اضطراب اکثر کر کے زلزلہ سے ہی ہوتا ہے اس لئے ہم نے اس جگہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ کے معنے کئے ہیں۔ ورنہ ممکن ہے کہ یہ اضطراب کسی اور حادثہ کی وجہ سے ہو زلزلہ کی وجہ سے نہ ہو یا اس اضطراب سے کوئی اور آفت مراد ہو۔ پس اس جگہ بھی (91) وہی بات قائم رہی جو پہلے ہم بیان کر چکے ہیں۔ یعنی یہ آیت بھی زلزلہ پر قطعية الدلالت نہیں۔ اگر چہ ظن غالب یہی ہے کہ اس جگہ ترجف الراجفة سے زلزلہ ہی مراد ہے۔ واللہ اعلم ۔ ہم نے کب اور کس وقت اپنی پیشگوئیوں کے الفاظ کے یہ معنے گئے ہیں کہ ان سے مراد زلزلہ نہیں ہے بلکہ ہم تو کہتے ہیں کہ اکثر اور اغلب طور پر زلزلہ کے لفظ سے مراد زلزلہ ہی ہے مگر ممکن ہے کہ قدیم سنت اللہ کے موافق ان الفاظ سے کوئی اور ایسی شدید اور خارق عادت اور سخت تباہی ڈالنے والی آفت مراد ہو جو زلزلہ کا رنگ اور خاصیت اپنے اندر رکھتی ہو کیونکہ خدا تعالیٰ کے کلام میں استعارات بھی اکثر پائے جاتے ہیں جن سے اہل علم کو انکار نہیں مگر ظاہر الفاظ کا سب سے پہلا حق ہے۔ اور ظاہر الفاظ ان پیشگوئیوں کے زلزلہ پر ہی دلالت کرتے ہیں۔ معترض صاحب نے یہ بار بار سوال کیا ہے کہ پیشگوئی کرنے والے نے نہ زلزلہ کے لفظ کو قطعی طور پر زلزلہ ہی قرار دیا ہے اور نہ وقت بتایا ہے پھر اس صورت میں یہ پیشگوئی کیا ہوئی ؟ یوں تو قیامت تک کوئی نہ کوئی حادثہ آ جائے گا اور سہل ہو گا کہ اسی کو اپنی پیشگوئی قرار دے دیں۔ تعجب کہ ہم بار بار کہے جاتے ہیں کہ ظن غالب کے طور پر زلزلہ سے مراد ہماری پیشگوئیوں میں زلزلہ ہی ہے اور اگر وہ نہ ہو تو ایسی خارق عادت آفت مراد ہے جو زلزلہ سے شدید مناسبت رکھتی ہو اور پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اس کے اندر موجود ہو پھر بھی معترض صاحب کی اس قدر الفاظ سے تسلی نہیں ہوتی۔ مجھے معلوم نہیں کہ ایسے تو ہمات کے ساتھ ان کی اسلام پر کیونکر تسلی ہو گئی ہے۔ ہر ایک کو معلوم ہے کہ انبیاء علیہم السلام کی پیشگوئیوں کے