براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 256
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم نہیں کرے گا ۔ ان الفاظ کو جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنا تو عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اس قدر بے قرار کیوں ہوتے ہیں۔ (۹۵) خدا تعالیٰ نے تو آپ کو پختہ وعدہ دے رکھا ہے کہ میں فتح دونگا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ سچ ہے مگر اُس کی بے نیازی پر میری نظر ہے۔ یعنی کسی وعدہ کا پورا کرنا خدا تعالیٰ پر حق واجب نہیں ہے۔ اب سمجھنا چاہیے کہ جب کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طریق ادب ربوبیت کو اس حد تک ملحوظ رکھا تو پھر اس مسلم عقیدہ جمیع ابنیاء علیہم السلام سے کیوں منہ پھیر لیا جائے کہ کبھی خدا تعالیٰ کی پیشگوئی ظاہر الفاظ پر پوری ہوتی ہے اور کبھی بطریق استعارہ اور مجاز پوری ہو جاتی ہے۔ اور اس عقیدہ کا مقابلہ نادانی ہے۔ اور یہ کہنا کہ جس پیشگوئی کے نہ ظاہر الفاظ پر بھروسہ ہے اور نہ اس کا وقت بتایا گیا وہ پیشگوئی کیسے ہوئی؟ یہ سفلی زندگی کا خیال ہے اور اس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو سنت اللہ کی کچھ بھی خبر نہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ جب ایک پیشگوئی کوئی عظمت اور قوت اور خارق عادت خبر اپنے اندر رکھتی ہو اور خدا کا ہاتھ صریح طور پر اس میں وقت ظہور نظر آجائے تو خود دل اس کو قبول کر لیتے ہیں اور کوئی شخص تاریخ وغیرہ کا ذکر نہیں کرتا۔ دراصل یہ جھگڑا اور یہ اعتراض قبل از وقت ہے۔ وہ وقت تو آنے دو بعد میں اعتراض کرنا۔ قبل از وقت واویلا اچھا نہیں ظہور کے وقت پیشگوئی خود بتادے گی کہ وہ معمولی بات ہے یا غیر معمولی۔ قوله - جب کہ بقول آپ کے قرآن شریف میں بھی دوزلزلوں کی خبر ہے تو اب تو آنے والی آفت کے زلزلہ ہونے میں شک کی جگہ نہ رہی۔ اقول - قرآن شریف میں یہ آیت ہے ۔ يَوْمَ تَرْجُفُ الرَّاحِفَةُ تَتْبَعُهَا الزَّادِقَةُ یعنی اس دن زمین ایک سخت اضطرابی حرکت کرے گی اور زمین میں ایک سخت اور شدید اضطراب پیدا ہو گا اور اس کے بعد ایک اور اضطراب زمین میں پیدا ہو گا جو پہلے کے بعد ظہور میں آئے گا۔ ان آیتوں کے ظاہر الفاظ میں زلزلہ کا کوئی ذکر نہیں کیونکہ لغت میں رجفان اضطراب شدید کو کہتے ہیں۔ چنانچہ بولا جاتا ہے رَجَفَ الشَّيْءُ یعنی اِضْطَرَبَ اِضْطِرَابًا شَدِيدًا النازعات : ۸۰۷