براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 255

۲۵۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد ۲۱ اُن کے سروں پر ٹوٹے گی ۔ مگر خدا فرماتا ہے کہ وہ بہار کے دن ہوں گے۔ آفتاب بہار کی صبح میں نمودار ہو گا اور خزاں کی شام میں غروب کرے گا۔ تب کئی گھروں میں ماتم پڑے گا کیونکہ (۹۴) انہوں نے وقت کو شناخت نہ کیا۔ علم غیب تک کسی نجومی اور کسی طبقات الارض کے علم کے مدعی کو رسائی نہیں اور کسی کو معلوم نہیں کہ کل کیا ہو گا مگر خدا جس نے یہ سب کچھ پیدا کیا ہے وہ اپنی مخلوقات کی تہ سے واقف ہے۔ قوله - جس حالت میں قرآن شریف میں دونوں زلزلوں کی خبر ہے پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ شاید وہ زلزلہ ہے یا کوئی اور آفت ہے۔ اقول ۔ میں نے تو بار بار کہہ دیا کہ ظاہر الفاظ قرآن شریف کے اور اس وحی الہی کے جو مجھ پر ہوئی زلزلہ کی ہی خبر دیتے ہیں لیکن سنت اللہ ہمیں مجبور کرتی ہے کہ تاویلی احتمال بھی پیش نظر رہے۔ اللہ تعالی قرآن شریف میں ایک قوم کے لئے ایک جگہ فرماتا ہے۔ وَزُلْزِلُوا زِلْزَ الَّا شَدِيدًا یعنی اُن پر سخت زلزلہ آیا حالانکہ اُن پر کوئی زلزلہ نہیں آیا تھا ۔ پس دوسری آفت کا نام اس جگہ زلزلہ رکھا گیا ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْلَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْلَى " یعنی جو شخص اس دنیا میں اندھا ہو گا وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یہ بھی ایک پیشگوئی ہے مگر اس کے وہ معنے نہیں ہیں جوظاہر الفاظ سے سمجھے جاتے ہیں۔ وسعت علم الہی پر ایمان رکھنا اور اپنے علم کو اس کے برابر نہ ٹھہرانا انبیاء اور رسولوں کی صفت ہے۔ قرآن شریف میں بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں پر فتح پانے کا وعدہ دیا گیا تھا مگر جب بدر کی لڑائی شروع ہوئی جو اسلام کی پہلی لڑائی تھی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رونا اور دعا کرنا شروع کیا اور دُعا کرتے کرتے یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلے اللهم إن اهلكت هذه العصابة فلن تُعبد في الأرضِ أَبَدًا یعنی اے میرے خدا! اگر آج تو نے اس جماعت کو (جو صرف تین سو تیرہ آدمی تھے ) ہلاک کر دیا تو پھر قیامت تک کوئی تیری بندگی الاحزاب :١٢ بنی اسرآئیل :۷۳