براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 254
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ☆ کہنا پڑتا ہے کہ اگر چہ بظاہر لفظ زلزلہ کا آیا ہے مگر ممکن ہے کہ وہ کوئی اور آفت ہو جو زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی ہو مگر نہایت شدید آفت ہو جو پہلے سے بھی زیادہ تباہی ڈالنے والی ہو جس کا سخت اثر مکانات پر بھی پڑے۔ اور یہ پیشگوئی تاریخ اور وقت نہ لکھنے سے باطل نہیں ہوسکتی کیونکہ اس کے ساتھ اس قدر اور تصریحات ہیں جو تاریخ اور وقت لکھنے سے مستغنی کرتی ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ زلزلہ تیری ہی زندگی میں آئے گا اور اس زلزلہ کے آنے سے تیرے لئے فتح نمایاں ہوگی اور ایک مخلوق کثیر تیری جماعت میں داخل ہو جائے گی۔ اور تیرے لئے وہ آسمانی نشان ہوگا۔ تیری تائید کے لئے خدا خود اترے گا اور اپنے عجائب کام دکھلائے گا جو کبھی دنیا نے نہیں دیکھے۔ اور دور دور سے لوگ آئیں گے اور تیری جماعت میں داخل ہوں گے۔ اور وہ زلزلہ پہلے زلزلہ سے بڑھ کر ہو گا اور اس میں قیامت کے آثار ظاہر ہوں گے اور دنیا میں ایک انقلاب پیدا کرے گا۔ اور خدا فرماتا ہے کہ میں اُس وقت آؤں گا کہ جب دل سخت ہو جائیں گے اور زلزلہ آنے کے خیال سے لوگ اطمینان حاصل کر لیں گے۔ اور خدا فرماتا ہے کہ میں مخفی طور پر آؤں گا اور میں ایسے وقت میں آؤں گا کہ کسی کو بھی اطلاع نہیں ہوگی۔ یعنی لوگ اپنے دنیا کے کاروبار میں سرگرمی اور اطمینان سے مشغول ہوں گے کہ یکدفعہ وہ آفت نازل ہو جائے گی اور اس سے پہلے لوگ تسلی کر بیٹھے ہوں گے کہ زلزلہ نہیں آئے گا اور اپنے تئیں بے خطر اور امن میں سمجھ لیا ہو گا تب یکدفعہ یہ آفت مسیح موعود کے بارے میں جو یہودیوں کو پیشگوئی کے طور پر خبر دی گئی تھی کہ وہ نہیں آئے گا جب تک کہ الیاس نبی دوباره آسمان سے نازل نہ ہولے لیکن آسمان سے تو کوئی نازل نہ ہوا اور حضرت عیسی علیہ السلام نے دعویٰ کر دیا کہ وہ مسیح موعود میں ہوں اور الیاس نبی سے مراد یکی نبی ہے جو مجھ سے پہلے آچکا۔ پس الیاس نبی کے دوبارہ آنے کی پیشگوئی جس کے یہود منتظر تھے اور اب تک منتظر ہیں حضرت بیٹی کے ظہور سے بطور استعارہ پوری ہو گئی۔ اس سے ظاہر ہے کہ پیشگوئیوں میں کبھی ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ صرف عَنِ الظاہر کر کے استعارہ کے رنگ میں اپنے وعدہ کو پورا کردیتا ہے۔ منہ