براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 250 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 250

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۵۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اندر داخل ہوں گے اور خانہ کعبہ کا طواف کریں گے۔ اور وقت نہیں بتایا گیا تھا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے محض اجتہاد کی بناء پر اُس سفر کی تکلیف اٹھائی۔ اور وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا اور مکہ میں داخل نہ ہو سکے سو اس جگہ پیشگوئی کے سمجھنے میں غلطی ہوئی جس سے بعض صحابہ ابتلا میں پڑ گئے ۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا نے خبر دی تھی کہ تو بادشاہ ہو گا۔ انہوں نے اس وحی الہی سے دنیا کی بادشاہی سمجھ لی۔ اور اسی بنا پر حضرت عیسی نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اپنے کپڑے بیچ کر ہتھیار خرید لومگر آخر معلوم ہوا کہ یہ حضرت عیسی کی غلط فہمی تھی اور بادشاہت سے مراد آسمانی بادشاہت تھی نہ زمین کی بادشاہت۔ اصل بات یہ ہے کہ پیغمبر بھی بشر ہی ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ نقص کی بات نہیں کہ کسی اپنے اجتہاد میں غلطی کھاوے۔ ہاں وہ غلطی پر قائم نہیں رکھا جا سکتا اور کسی وقت اپنی غلطی پر ضرور متنبہ کیا جاتا ہے۔ اور نبی کی پیشگوئی کو ہمیشہ اس کے خارق عادت مفہوم کی رُو سے دیکھنا چاہیئے اور اگر کسی خاص پہلو پر پیشگوئی کا ظہور نہ ہو اور کسی دوسرے پہلو پر ظاہر ہو جائے اور اصل امر جو اس پیشگوئی کا خارق عادت ہونا ہے وہ دوسرے پہلو میں بھی پایا جائے۔ اور واقعہ کے ظہور کے بعد ہر ایک عقلمند کو سمجھ آجائے کہ یہی صحیح معنے پیشگوئی کے ہیں جو واقعہ نے اپنے ظہور سے آپ کھول دیئے ہیں تو اس پیشگوئی کی عظمت اور وقعت میں کچھ بھی فرق نہیں آتا ۔ اور اس پر ناحق نکتہ چینی کرنا شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے۔ قوله ۔ ایک گول بات کہہ دینی کہ کوئی آفت آنے والی ہے لیکن اس کی کیفیت نہ بتانی کہ کیا آفت ہے اور کب آنے والی ہے پیشگوئی نہیں بلکہ تمسخر ہے اور ہر ایک شخص ایسا کہہ سکتا ہے۔ اقول ۔ بجز اس کے کیا کہیں کہ لعنة اللہ علی الکاذبین۔ ایسے مخالف کو چاہیئے کہ اتنا ہی کہہ دے کہ ایسی آفت نہیں آئے گی۔ اور پھر آپ خود سوچ لیں کہ یہ پیشگوئی گول مول کیسے ہوئی۔ جب کہ صریح اس میں زلزلہ کا نام بھی موجود ہے اور یہ بھی موجود ہے کہ اُس میں