براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 249
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم مثیل موسیٰ ایسو عا نبی تھا جو موسیٰ کے فوت ہونے کے بعد اس کا جانشین ہوا۔ اور عیسائی کہتے ہیں کہ مثیل موسی عیسی ہے کیونکہ وہ بھی موسیٰ کی طرح منجی ہو کر آیا ہے ۔ اب بتلاؤ کہ توریت کی ایسی پیشگوئی کا جس نے کوئی صاف فیصلہ نہ کیا، کیا فائدہ ہوا؟ جس نبی علیہ السلام کی نسبت پیشگوئی تھی نہ یہود اس کو شناخت کر سکے نہ عیسائی اور دونوں گروہ سعادت قبول سے محروم رہے مگر وہ وحی الہی جو میرے پر نازل ہوئی یعنی عفت الديار محلها و مقامھا یہ جیسا کہ تمہارا خیال ہے مہم نہیں ہے کیونکہ اس سے پہلے اسی اخبار میں یہ الہام موجود ہے کہ زلزلہ کا دھنگا “۔ پھر بعد اس کے یہ دوسری وحی که عفت الديار محلها و مقامها اسی زلزلہ کی صفات بیان کرتی ہے جس کا پہلے اسی اخبار میں ذکر ہو چکا ہے۔ اور یہ پیشگوئی طاعون پر کسی طرح صادق نہیں آسکتی ۔ اور یہ دونوں وحی ایک ہی اخبار میں صرف پانچ ماہ کے فاصلہ کے ساتھ موجود ہیں یعنی الحکم میں ۔ اب بتلاؤ کہ کیا یہ ہٹ دھرمی (۸۹) ہے یا نہیں کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی کو جو دو مرتبہ ایک ہی اخبار میں صریح زلزلہ کا نام اور اس کے صفات بیان کر کے اس عظیم الشان حادثہ کی خبر دیتی ہے علمی اور لغو قرار دی جائے اور اگر یہی بات ہے تو پھر آپ کا اسلام پر قائم رہنا ہی مشکل ہے معتبر تفسیروں میں لکھا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَ يُوَلُّونَ النُّبُرَ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ کو معلوم نہیں کہ یہ پیشگوئی کس موقعہ کے متعلق ہے ۔ اور پھر جب بدر کی لڑائی میں فتح عظیم ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ اب معلوم ہوا کہ اسی فتح عظیم کی یہ پیشگوئی خبر دیتی تھی اور ایک مرتبہ آپ نے فرمایا کہ مجھ کو ایک خوشئہ انگور دیا گیا کہ یہ ابو جہل کے لئے ہے اور میں حیران تھا کہ ابو جہل کا ایسا خبیث مادہ ہے کہ وہ بہشت میں داخل ہونے کے لائق نہیں ۔ اور کچھ بھی اس کے معنی سمجھ نہ آئے ۔ آخر وہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی کہ ابو جہل کا بیٹا عکرمہ مسلمان ہو گیا اور ایک مرتبہ آپ نے ایک وحی الہی کے مطابق مدینہ سے مکہ کی طرف ایک طول طویل سفر کیا۔ اور وحی الہی میں یہ بشارت دی گئی تھی کہ مکہ کے القمر : ٤٦