براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 248
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اب آپ خود منصف ہو کر سوچ لیں کہ الہام عفت الديار محلها و مقامها اپنے لفظی معنوں کے رو سے اس زلزلہ کی پیشگوئی پر چسپاں ہوتا ہے جو پہلے اس سے ذکر بھی کیا گیا یا طاعون پر ماسوا اس کے زلزلہ کی پیشگوئی کا اس فقرہ سے یعنی عفت الدیار کی پیشگوئی سے جیسا کہ معنوں کی رُو سے تعلق ہے ایسا ہی قُرب زمانی کی رُو سے بھی تعلق ہے اور وہ یہ کہ عفت الدیار کے الہام سے پانچ ماہ پہلے صریح الفاظ میں زلزلہ کا الہام ہو چکا ہے اور دونوں پیشگوئیاں ایک دوسرے کے بعد شائع ہو چکی ہیں۔ یعنی پہلے زلزلہ کا دھنگا اور پھر عفت الديار محلّها و مقامها اوران دونوں کے اندر طاعون کا کوئی ذکر نہیں۔ قوله - اگر الہام عفت الديار الخ کی نسبت قطعی طور پر علم نہیں دیا گیا تھا کہ وہ زلزلہ کے ۸۸ متعلق ہے تو پھر ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا۔ اقول ۔ افسوس آپ کو سنت اللہ کی کچھ بھی خبر نہیں ۔ نبی کے لئے کسی پیشگوئی کے کسی خاص پہلو کا قطعی علم ہونا کہ ضرور اسی پہلو پر ظاہر ہوگی ضروری نہیں پیشگوئی میں اس بات کا ہونا تو ضروری ہے کہ اس کا مفہوم خارق عادت ہوا اور انسانی قوت یا مکر وفریب اس کا مقابلہ نہ کر سکے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر ایک پہلو سے اس پیشگوئی کی حقیقت ظاہر کی جائے ۔ توریت میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت ایک ضروری پیشگوئی محض گول مول ہے کہ ایک نبی موسیٰ کی مانند بنی اسرائیل میں سے اُن کے بھائیوں میں سے آئے گا اور کہیں کھول کر نہ بتلایا کہ بنی اسماعیل میں سے آئے گا۔ اور اس کا یہ نام اور اس کے باپ کا یہ نام ہوگا ۔ اور مکہ میں پیدا ہو گا اور اتنی مدت بعد آئے گا۔ اس لئے یہود کو اس پیشگوئی سے کچھ بھی فائدہ نہ ہوا۔ اور اسی غلطی سے لاکھوں یہود جہنم میں جا پڑے حالانکہ قرآن شریف نے اسی پیشگوئی کی طرف اس آیت میں اشارہ کیا ہے۔ إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمُ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلى فِرْعَوْنَ رَسُولًا اور یہود کہتے ہیں کہ توریت میں بعض جگہ بنی اسرائیل کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ وہ تم میں سے ہی آئے گا۔ منہ المزمل : ١٦