براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 244

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اب واضح ہو کہ جہاں تک ہم نے سورۃ المؤمنون کی آیات ممدوحہ بالا کے معجزہ ہونے کی نسبت لکھنا تھا وہ سب ہم لکھ چکے اور بخوبی ثابت کر چکے کہ سورۃ موصوفہ کی ابتدا میں مومن کے وجود روحانی کے چھ مراتب قرار دیئے ہیں اور مرتبہ ششم خلق آخر کا رکھا ہے۔ یہی مراتب ستہ سورۃ موصوفہ بالا میں جسمانی پیدائش کے بارہ میں بعد ذکر پیدائش روحانی بیان فرمائے گئے ہیں۔ اور یہ ایک علمی اعجاز ہے۔ اور یہ علمی نکتہ قرآن شریف سے پہلے کسی کتاب میں مذکور (۸۴) نہیں ہے۔ پس ان آیات کا آخری حصہ یعنی فَتَبرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ بلا شبہ ایک علمی معجزہ کی جڑ ہے کیونکہ وہ ایک اعجازی موقعہ پر چسپاں کیا گیا ہے۔ اور انسان کے لئے یہ بات ممکن نہیں کہ اپنے بیان میں ایسی اعجازی صورت پیدا کرے اور پھر اس پر آیت فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخُلِقِينَ چسپاں کرے۔ اور اگر کوئی کہے کہ اس پر کیا دلیل ہے کہ آیات مذکورہ بالا میں جو مقابلہ انسان کے مراتب پیدائش روحانی اور پیدائش جسمانی میں دکھلایا گیا ہے وہ علمی معجزہ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ معجزہ اس کو کہتے ہیں کہ کوئی انسان اس کے مثل بنانے پر قادر نہ ہو سکے یا گذشتہ زمانہ میں قادر نہ ہوسکا ہو اور نہ بعد میں قادر ہونے کا ثبوت ہو۔ پس ہم دعوی سے کہتے ہیں کہ یہ بیان انسانی پیدائش کی دقیق فلاسفی کا جو قرآن شریف میں مندرج ہے یہ ایک ایسا بے مثل و مانند بیان ہے کہ اس کی نظیر پہلے اس سے کسی کتاب میں نہیں پائی جاتی۔ نہ اس زمانہ میں ہم نے سنا کہ کسی ایسے شخص کو جو قرآن شریف کا علم نہیں رکھتا اس فلاسفی کے بیان کرنے میں قرآن شریف سے توارد ہوا ہو۔ اور جب کہ قرآن شریف اپنے جمیع معارف اور نشانوں اور فصاحت بلاغت کے لحاظ سے معجزہ ہونے کا دعوی کرتا ہے اور یہ آیات قرآن شریف کا ایک حصہ ہے جو دعویٰ اعجاز میں داخل ہے پس اس کا بے مثل و مانند ثابت ہونا باوجود دعوی اعجاز اور طلب مقابلہ کے بلاشبہ معجزہ ہے۔ اور معترض کے بقیہ اعتراضات کا جواب ذیل میں لکھا جاتا ہے۔ قوله عفت الديار محلها و مقامها ایک پرانے شاعر کا مصرع ہے۔ کیا کسی المؤمنون: ۱۵