براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 242

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اخلاق اس میں مندرج ہو جاتے ہیں اور جیسا کہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ آئینہ جو ایک سامنے کھڑے ہونے والے منہ کے تمام نقوش اپنے اندر لے کر اس منہ کا خلیفہ ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مومن بھی ظلمی طور پر اخلاق اور صفات الہیہ کو اپنے اندر لے کر خلافت کا درجہ اپنے اندر حاصل کرتا ہے اور ظلی طور پر الہی صورت کا مظہر ہو جاتا ہے اور جیسا کہ خدا غیب الغیب ہے اور اپنی ذات میں وراء الوراء ہے ایسا ہی یہ مومن کامل اپنی ذات میں غیب الغیب اور وراء الوراء ہوتا ۸۲ ہے۔ دنیا اس کی حقیقت تک پہنچ نہیں سکتی۔ کیونکہ وہ دنیا کے دائرہ سے بہت ہی دُور چلا جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خدا جو غیر متبدل اور حتی و قیوم ہے وہ مومن کامل کی اُس پاک تبدیلی کے بعد جب کہ مومن خدا کے لئے اپنا وجود بالکل کھو دیتا ہے اور ایک نیا چولا پاک تبدیلی کا پہن کر اُس میں سے اپنا سر نکالتا ہے۔ تب خدا بھی اس کے لئے اپنی ذات میں ایک تبدیلی کرتا ہے مگر یہ نہیں کہ خدا کی ازلی ابدی صفات میں کوئی تبدیلی ہوتی ہے نہیں بلکہ وہ قدیم سے اور ازل سے غیر متبدل ہے۔ لیکن یہ صرف مومن کامل کے لئے جلوہ قدرت ہوتا ہے اور ایک تبدیلی جس کی ہم گنہ نہیں سمجھ سکتے مومن کی تبدیلی کے ساتھ خدا میں بھی ظہور میں آجاتی ہے مگر اس طرح پر کہ اُس کی غیر متبدل ذات پر کوئی گرد و غبار حدوث کا نہیں بیٹھتا۔ وہ اسی طرح غیر متبدل ہوتا ہے جس طرح وہ قدیم سے ہے لیکن یہ تبدیلی جو مومن کی تبدیلی کے وقت ہوتی ہے یہ اس قسم کی ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب مومن خدائے تعالی کی طرف حرکت کرتا ہے تو خدا اس کی نسبت تیز حرکت کے ساتھ اُس کی طرف آتا ہے اور ظاہر ہے کہ جیسا کہ اللہ تعالیٰ تبدیلیوں سے پاک ہے ایسا ہی وہ حرکتوں سے بھی پاک ہے۔ لیکن یہ تمام الفاظ استعارہ کے رنگ میں بولے جاتے ہیں اور بولنے کی اس لئے ضرورت پڑتی ہے کہ تجر بہ شہادت دیتا ہے کہ جیسے ایک مومن خدائے تعالیٰ کی راہ میں نیستی اور فنا اور استهلاک کر کے اپنے تئیں ایک نیا وجود بناتا ہے اس کی ان تبدیلیوں کے مقابل پر خدا بھی اس کے لئے ایک نیا ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ معاملات کرتا ہے جو دوسرے کے ساتھ کبھی نہیں کرتا۔ اور اس کو اپنے ملکوت اور اسرار کا وہ سیر