براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 241
روح<mark><mark>ان</mark></mark>ی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اس قدر تکمیل کے بعد کہا جائے گا کہ وہ ام<mark><mark>ان</mark></mark>تیں جو منعم حقیقی نے <mark><mark>ان</mark></mark>س<mark><mark>ان</mark></mark> کو دی تھیں وہ واپس کی گئیں۔ تب ایسے شخص پر یہ آیت صادق آئے گی وَالَّذِينَ هُمْ لِاَ مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رعون اس درجہ پر صرف ایک قالب تیار ہوتا ہے اور تجلی الہی کی روح جس سے مراد محبت ذاتیہ حضرت عزت ہے بعد اس کے مع روح القدس ایسے مومن کے <mark><mark>ان</mark></mark>در داخل ہوتی اور نئی حیات اُس کو بخشتی ہے اور ایک نئی قوت اس کو عطا کی جاتی ہے اور اگر چہ یہ سب کچھ رُوح کے اثر ۸۱ سے ہی ہوتا ہے لیکن ہنوز روح مومن سے صرف ایک تعلق رکھتی ہے اور ابھی مومن کے دل کے <mark><mark>ان</mark></mark>در آباد نہیں ہوتی۔ پھر بعد اس کے وجود رُوح<mark><mark>ان</mark></mark>ی کا مرتبہ ششم ہے یہ وہی مرتبہ ہے جس میں مومن کی محبت ذا یہ اپنے کمال کو پہنچ کر اللہ جل ش<mark><mark>ان</mark></mark>ہ کی محبت ذاتیہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب خدا تعالیٰ کی وہ محبت ذاتی مومن کے <mark><mark>ان</mark></mark>در داخل ہوتی اور اس پر احاطہ کرتی ہے جس سے ایک نئی اور فوق العادت طاقت مومن کو ملتی ہے اور وہ ایم<mark><mark>ان</mark></mark>ی طاقت ایم<mark><mark>ان</mark></mark> میں ایک ایسی زندگی پیدا کرتی ہے جیسے ایک قالب بے ج<mark><mark>ان</mark></mark> میں روح داخل ہو جاتی ہے بلکہ وہ مومن میں داخل ہو کر در حقیقت ایک رُوح کا کام کرتی ہے۔ تمام <mark><mark>قومی</mark></mark> میں اس سے ایک نور پیدا ہوتا ہے۔ اور روح القدس کی تائید ایسے مومن کے شامل حال ہوتی ہے کہ وہ باتیں اور وہ علوم جو <mark><mark>ان</mark></mark>س<mark><mark>ان</mark></mark>ی طاقت سے برتر ہیں وہ اس درجہ کے مومن پر کھولے جاتے ہیں اور اس درجہ کا مومن ایم<mark><mark>ان</mark></mark>ی ترقیات کے تمام مراتب طے کر کے <mark><mark>ان</mark></mark> ظلی کمالات کی وجہ سے جو حضرت عزت کے کمالات سے اُس کو ملتے ہیں آسم<mark><mark>ان</mark></mark> پر خلیفہ اللہ کا لقب پاتا ہے کیونکہ جیسا کہ ایک شخص جب آئینہ کے مقابل پر کھڑا ہوتا ہے تو تمام نقوش اس کے منہ کے نہایت صفائی سے آئینہ میں منعکس ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی اس درجہ کا مومن جو نہ صرف ترک نفس کرتا ہے بلکہ نفی وجود اور ترک نفس کے کام کو اس درجہ کے کمال تک پہنچاتا ہے کہ اس کے وجود میں سے کچھ بھی نہیں رہتا اور صرف آئینہ کے رنگ میں ہو جاتا ہے۔ تب ذات الہی کے تمام نقوش اور تمام المؤمنون: ٩