براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 240
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۴۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اور ایفائے عہد کے بارے میں کوئی دقیقہ تقویٰ اور احتیاط کا باقی نہیں چھوڑتے ۔ یہ اس امانت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کا نفس اور اس کے تمام قوئی اور آنکھ کی بینائی اور کانوں کی شنوائی اور زبان کی گویائی اور ہاتھوں پیروں کی قوت یہ سب خدا تعالی کی امانتیں ہیں جو اُس نے دی ہیں اور جس وقت وہ چاہے اپنی امانتوں کو واپس لے سکتا ہے۔ پس ان تمام امانتوں کا رعایت رکھنا یہ ۸۰ ہے کہ باریک در بار یک تقویٰ کی پابندی سے خدا تعالیٰ کی خدمت میں نفس اور اُس کے تمام قویٰ اور جسم اور اس کے تمام قومی اور جوارح کو لگایا جائے اس طرح پر کہ گویا یہ تمام چیزیں اُس کی نہیں بلکہ خدا کی ہو جائیں اور اُس کی مرضی سے نہیں بلکہ خدا کی مرضی کے موافق ان تمام قومی اور اعضاء کا حرکت اور سکون ہو اور اس کا ارادہ کچھ بھی نہ رہے بلکہ خدا کا ارادہ اُن میں کام کرے اور خدا تعالی کے ہاتھ میں اس کا نفس ایسا ہو جیسا کہ مُردہ زندہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ اور یہ خود رائی سے بے دخل ہو اور خدا تعالیٰ کا پورا تصرف اس کے وجود پر ہو جائے یہاں تک کہ اُسی سے دیکھے اور اُسی سے سنے اور اُسی سے بولے اور اُسی سے حرکت یا سکون کرے اور نفس کی دقیق در دقیق آلائشیں جو کسی خورد بین سے بھی نظر نہیں آسکتیں دُور ہو کر فقط روح رہ جائے ۔ غرض مہیمنت خدا کی اس پر احاطہ کر لے اور اپنے وجود سے اس کو کھو دے اور اُس کی حکومت اپنے وجود پر کچھ نہ رہے اور سب حکومت خدا کی ہو جائے اور نفسانی جوش سب مفقود ہو جائیں اور الوہیت کے ارادے اُس کے وجود میں جوش زن ہو جائیں۔ پہلی حکومت بالکل اُٹھ جائے اور دوسری حکومت دل میں قائم ہو اور نفسانیت کا گھر ویران ہو اور اُس جگہ پر حضرت عزت کے خیمے لگائے جائیں اور ہیبت اور جبروت الہی تمام ان پودوں کو جن کی آب پاشی گندے چشمہ نفس سے ہوتی تھی اس پلید جگہ سے اکھیڑ کر رضا جوئی حضرت عزت کی پاک زمین میں لگا دئے جائیں اور تمام آرزوئیں اور تمام ارادے اور تمام خواہشیں خدا میں ہو جائیں اور نفس امارہ کی تمام عمارتیں منہدم کر کے خاک میں ملا دی جائیں اور ایک ایسا پاک محل تقدس اور تطہیر کا دل میں طیار کیا جاوے جس میں حضرت عزت نازل ہو سکے اور اس کی روح اس میں آباد ہو سکے