براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 226 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 226

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم دعا اُن کی سنی جاتی ہے اور جس میں یہ علامت نہیں پائی جاتی وہ محبوبانِ الہی میں سے نہیں ے مگر افسوس کہ یہ لوگ منہ سے تو ایک بات نکال لیتے ہیں مگر اعتراض کرنے کے وقت یہ نہیں سوچتے کہ ایسے جاہلانہ اعتراض خدا تعالیٰ کے تمام نبیوں اور رسولوں پر وارد ہوتے ہیں مثلاً ہر ایک نبی کی یہ مراد تھی کہ تمام کفار ان کے زمانہ کے جو ان کی مخالفت پر کھڑے تھے مسلمان ہو جائیں مگر یہ مراد اُن کی پوری نہ ہوئی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ * یعنی ” کیا تو اس غم سے اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں ایمان نہیں لاتے ۔“ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے ایمان لانے کے لئے اس قدر جانکاہی اور سوز و گداز سے دُعا کرتے تھے کہ اندیشہ تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس غم سے خود ہلاک نہ ہو جاویں اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کے لئے اس قدر غم نہ کر اور اس قدر اپنے دل کو دردوں کا نشانہ مت بنا کیونکہ یہ لوگ ایمان لانے سے لا پروا ہیں اور ان کے اغراض اور مقاصد اور ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ اشارہ فرمایا ہے کہ اے نبی (علیہ السلام) ! جس قدر تو عقد ہمت اور کامل توجہ اور سوز و گداز اور اپنی روح کو مشقت میں ڈالنے سے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے دعا کرتا ہے تیری دعاؤں کے پُر تاثیر ہونے میں کچھ کمی نہیں ہے لیکن شرط قبولیت دعا یہ ہے کہ جس کے حق میں دعا کی جاتی ہے سخت متعصب اور لا پروا اور گندی فطرت کا انسان نہ ہو ورنہ دعا قبول نہیں ہوگی اور جہاں تک مجھے خدا تعالیٰ نے دعاؤں کے بارے میں علم دیا ہے وہ یہ ہے کہ دعا کے قبول ہونے کے لئے تین شرطیں ہیں۔ یم یا در ہے کہ مومن کے ساتھ خدا تعالیٰ دوستانہ معاملہ کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کبھی تو وہ مومن کے ارادہ کو پورا کرے اور کبھی مومن اس کے ارادہ پر راضی ہو جائے۔ پس ایک جگہ تو مومن کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ یعنی دعا کرو کہ میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔ اس جگہ تو مومن کی خواہش پوری کرنا چاہتا ہے۔ اور دوسری جگہ اپنی خواہش مومن سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِيْنَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رَاجِعُونَ افسوس کہ نادان آدمی صرف ایک پہلوکو دیکھتا ہے اور دونوں پہلوؤں پر نظر نہیں ڈالتا۔ منہ الشعراء : المؤمن : ٦١ البقرة : ۱۵۶ ۱۵۷