براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 224
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۲۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اپنی پاک کتاب میں جو فرقان مجید ہے فرماتا ہے کہ مومنوں کا نور ان کے چہروں پر دوڑتا ہے۔ اور مومن اس حسن سے شناخت کیا جاتا ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں نور ہے۔ اور مجھے ایک دفعہ عالم کشف میں پنجابی زبان میں اسی علامت کے بارہ میں یہ موزوں فقرہ سنایا گیا۔ عشق الہی و سے مُنہ پر ولیاں ایہ نشانی“ مومن کا نور جس کا (۲۵) قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے وہ وہی روحانی حسن و جمال ہے جو مومن کو وجود روحانی کے مرتبہ ششم پر کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے۔ جسمانی حسن کا ایک شخص یا دو شخص خریدار ہوتے ہیں مگر یہ عجیب حسن ہے جس کے خریدار کروڑ ہار وھیں ہو جاتی ہیں۔ اسی روحانی حسن کی بنا پر بعض نے سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی نعت میں یہ شعر کہے ہیں اور اُن کو ایک نہایت درجہ حسین اور خوبصورت قرار دیا ہے اور وہ اشعار یہ ہیں آن ترک مجم چون نہ مئے عشق طرب کرد غارت گریے کوفہ و بغداد و حلب کرد صد لالہ رُخ بود بصد حسن شگفته نازان همه را زیر قدم کرد عجب کرد فطرتا بعض طبائع کو بعض طبائع سے مناسبت ہوتی ہے۔ اسی طرح میری روح اور سید عبدالقادر کی روح کو خمیر فطرت سے با ہم ایک مناسبت ہے جس پر کشوف صحیحہ صریحہ سے مجھ کو اطلاع ملی ہے۔ اس بات پر تمہیں برس کے قریب زمانہ گزر گیا ہے کہ جب ایک رات مجھے خدا نے اطلاع دی کہ اُس نے مجھے اپنے لئے اختیار کر لیا ہے۔ تب یہ عجیب اتفاق ہوا کہ اسی رات ایک بڑھیا کو خواب آئی جس کی عمر قریبا اتنی برس کی تھی اور اس نے صبح مجھے کوآ کر کہا کہ میں نے رات سید عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہ کو خواب میں دیکھا ہے اور ساتھ ان کے ایک اور بزرگ تھے اور دونوں سبز پوش تھے اور رات کے پچھلے حصہ کا وقت تھا۔ دوسرا بزرگ عمر میں اُن سے کچھ چھوٹا تھا۔ پہلے انہوں نے ہماری جامع مسجد میں نماز پڑھی اور پھر مسجد کے باہر کے صحن میں نکل آئے اور میں اُن کے پاس کھڑی تھی اتنے میں مشرق کی طرف سے ایک چمکتا ہواستارہ نکلا تب اس ستارہ کو دیکھ کر سید عبد القادر بہت خوش ہوئے اور ستارہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا السلام علیکم اور ایسا ہی ان کے رفیق نے السلام علیکم کہا۔ اور وہ ستارہ میں تھا۔ المؤمن يراى و يُرى له • منه