براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 219 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 219

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہنوز پورے طور پر چمکتی نہیں اور وجود روحانی کے درجہ ششم میں بوجہ کامل ہونے پیدائش اور روح کے داخل ہو جانے کے یہ خوبصورتی اپنی تمام آب و تاب دکھلا دیتی ہے۔ اور یادر ہے کہ مرتبہ ششم وجود روحانی میں روح سے مراد وہ محبت ذاتیہ الہیہ ہے جو انسان کی محبت ذاتیہ پر ایک شعلہ کی طرح پڑتی اور تمام اندرونی تاریکی دور کرتی اور روحانی زندگی بخشتی ہے اور اس کے لوازم میں سے روح القدس کی تائید بھی کامل طور پر ہے۔ دو سر احسن انسان کی پیدائش میں حسن بشرہ ہے۔ اور یہ دونوں حسن اگر چہ روحانی اور جسمانی پیدائش درجہ پنجم میں نمودار ہو جاتے ہیں لیکن آب و تاب اُن کی فیضانِ روح کے بعد ظاہر ہوتی ہے اور جیسا کہ جسمانی وجود کی روح جسمانی قالب طیار ہونے کے بعد جسم میں داخل ہوتی ہے ایسا ہی روحانی وجود کی روح روحانی قالب طیار ہونے کے بعد انسان کے رُوحانی وجود میں داخل ہوتی ہے۔ یعنی اُس وقت جب کہ انسان شریعت کا تمام جوا اپنی گردن پر لے لیتا ہے اور مشقت اور مجاہدہ کے ساتھ تمام حدود الہیہ کے قبول کرنے کے لئے طیار ہوتا ہے اور ورزش شریعت اور بجا آوری احکام کتاب اللہ سے اس لائق ہو جاتا ہے کہ خدا کی روحانیت اس کی طرف توجہ فرما دے اور سب سے زیادہ یہ کہ اپنی محبت ذاتیہ سے اپنے تئیں خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ کا مستحق ٹھہرالیتا ہے جو برف کی طرح 1 سفید اور شہد کی طرح شیریں ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وجود روحانی خشوع کی حالت سے شروع ہوتا ہے اور روحانی نشو ونما کے چھٹے مرتبہ پر یعنی اس مرتبہ پر کہ جب کہ روحانی قالب کے کامل ہونے کے بعد محبت ذاتیہ الہیہ کا شعلہ انسان کے دل پر ایک روح کی طرح پڑتا ہے اور دائمی حضور کی حالت اس کو بخش دیتا ہے کمال کو پہنچتا ہے اور تبھی روحانی حسن اپنا پورا جلوہ دکھاتا ہے لیکن یہ حسن جو روحانی حسن ہے جس کو حسن معاملہ کے ساتھ موسوم کر سکتے ہیں یہ وہ حسن ہے جو اپنی قومی کششوں کے ساتھ حسن بشرہ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ حسن بشرہ صرف ایک یا دو شخص کے فانی عشق کا موجب ہو گا جو جلد