براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 210
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۱۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیر اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قوتیں اور اخلاق ہیں۔ ان کو جہاں تک طاقت ہو ٹھیک ٹھیک محل ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ جملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق عباد کا بھی لحاظ رکھنا یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں تقویٰ کو لباس کے نام سے موسوم کیا ہے۔ چنانچہ لِبَاسُ التَّقوای قرآن شریف کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ روحانی خوبصورتی اور روحانی زینت تقوی سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھنے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر تا بمقدور کار بند ہو جائے۔ یہ تو وجو د روحانی کا پانچواں درجہ ہے اور اس کے مقابل پر جسمانی وجود کا پانچواں درجہ وہ ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر ہے فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا۔ یعنی پھر ہم نے ہڈیوں پر گوشت مڑھا دیا اور جسمانی بناوٹ کی کسی قدر خوبصورتی دکھلا دی۔ یہ عجیب مطابقت ہے کہ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے ایک جگہ روحانی طور پر تقویٰ کو لباس قرار دیا ہے ایساہی گسونا کا لفظ جو کسوت سے نکلا ہے وہ بھی بتلا رہا ہے کہ جو گوشت ہڈیوں پر مڑھا جاتا ہے وہ بھی ایک لباس ہے جو ہڈیوں پر پہنایا جاتا ہے۔ پس یہ دونوں لفظ دلالت کر رہے ہیں کہ جیسی خوبصورتی کا لباس تقویٰ پہناتی ہے ایسا ہی وہ کسوت جو ہڈیوں پر چڑھائی جاتی ہے ہڈیوں کے لئے ایک خوبصورتی کا پیرا یہ بخشتی ہے۔ وہاں لباس کا لفظ ہے اور یہاں کسوت کا اور دونوں کے معنے ایک ہیں اور نص قرآنی بآواز بلند پکار رہی ہے کہ دونوں کا مقصد خوبصورتی ہے اور جیسا کہ انسان کی روح پر سے اگر تقویٰ کا (۵۳) لباس اتار دیا جائے تو روحانی بد شکلی اس کی ظاہر ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ گوشت و پوست جو حکیم مطلق نے انسان کی ہڈیوں پر مڑھا ہے اگر ہڈیوں پر سے اتار دیا جائے تو انسان کی جسمانی شکل ا المؤمنون : ۱۵