براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 208
۵۱ روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کسی امر کی باریک راہ پر چلنا اختیار کرتا ہے اور اس امر کے تمام دقائق بجالانا چاہتا ہے اور کوئی پہلو اس کا چھوڑنا نہیں چاہتا۔ پس اس آیت کا حاصل مطلب یہ ہوا کہ وہ مومن جو وجو د روحانی کے پنجم درجہ پر ہیں حتی الوسع اپنی موجودہ طاقت کے موافق تقویٰ کی باریک راہوں پر قدم مارتے ہیں اور کوئی پہلو تقویٰ کا جو امانتوں یا عہد کے متعلق ہے خالی چھوڑنا نہیں چاہتے اور سب کی رعایت رکھنا اُن کا لو ظانظر ہوتا ہے اور اس بات پر خوش نہیں ہوتے کہ موٹے طور پر اپنے تئیں امین اور صادق العہد قرار دے دیں بلکہ ڈرتے رہتے ہیں کہ در پردہ اُن سے کوئی خیانت ظہور پذیر نہ ہو۔ پس طاقت کے موافق اپنے تمام معاملات میں توجہ سے غور کرتے رہتے ہیں کہ ایسانہ ہو کہ اندرونی طور پر اُن میں کوئی نقص اور خرابی ہو اور اسی رعایت کا نام دوسرے لفظوں میں تقویٰ ہے۔ خلاصہ مطلب یہ کہ وہ مومن جو وجود روحانی میں پنجم درجہ پر ہیں وہ اپنے معاملات میں خواہ خدا کے ساتھ ہیں خواہ مخلوق کے ساتھ بے قید اور خلیع الرسن نہیں ہوتے بلکہ اس خوف سے کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک کسی اعتراض کے نیچے نہ آجاویں اپنی امانتوں اور عہدوں میں دور دور کا خیال رکھ لیتے ہیں اور ہمیشہ اپنی امانتوں اور عہدوں کی پڑتال کرتے رہتے ہیں اور تقویٰ کی دور بین سے اس کی اندرونی کیفیت کو دیکھتے رہتے ہیں تا ایسا نہ ہو کہ در پردہ اُن کی امانتوں اور عہدوں میں کچھ فتور ہو اور جو امانتیں خدا تعالیٰ کی اُن کے پاس ہیں جیسے تمام قومی اور تمام اعضاء اور جان اور مال اور عزت و غیرہ ان کو حتی الوسع اپنی پابندی تقویمی بہت احتیاط سے اپنے اپنے محل پر استعمال کرتے رہتے ہیں اور جو عہد ایمان لانے کے وقت خدا تعالیٰ سے کیا ہے کمال صدق سے حتی المقدور اس کے پورا کرنے کے لئے کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ ایسا ہی جو امانتیں مخلوق کی اُن کے پاس ہوں یا ایسی چیزیں جو امانتوں کے حکم میں ہوں اُن سب میں تابمقد ورتقویٰ کی پابندی سے کاربند ہوتے ہیں۔ اگر کوئی تنازع واقع ہو تو تقویٰ کو مد نظر رکھ کر اس کا فیصلہ کرتے ہیں گو اس فیصلہ میں نقصان اٹھا لیں۔ یہ درجہ چوتھے درجہ سے اس لئے بڑھ کر ہے