براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 200 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 200

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۲۰۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم چھڑانا خدا سے دل کو لگا لینا ہے کیونکہ انسان تعبد ابدی کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اور طبعی طور پر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجود ہے پس اسی وجہ سے انسان کی روح کو خدا تعالیٰ سے ایک تعلق ازلی ہے۔ جیسا کہ آیت انستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ تعلق جو انسان کو رحیمیت کے پر توہ کے نیچے آکر یعنی عبادات کے ذریعہ سے خدا تعالیٰ سے حاصل ہوتا ہے جس تعلق کا پہلا مرتبہ یہ ہے کہ خدا پر ایمان لا کر ہر ایک لغو بات اور لغو کام اور لغو مجلس اور لغوحرکت اور لغو تعلق اور لغو جوش سے کنارہ کشی کی جائے ۔ وہ اُسی از لی تعلق کو مکمن قوت سے حیز فعل میں لانا ہے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نماز اور یا دالہی میں حالت خشوع اور رقت اور سوز و گداز ہے یہ مرتبہ اپنی ذات میں صرف اطلاق کی حیثیت رکھتا ہے یعنی نفس خشوع کے لئے یہ لازمی امر نہیں ہے کہ ترک لغویات بھی ساتھ ہی ہو یا اس سے بڑھ کر کوئی اخلاق فاضلہ اور عادات مہذ بہ ساتھ ہوں بلکہ ممکن ہے کہ جو شخص نماز میں خشوع اور رقت وسوز اور گریہ وزاری اختیار کرتا ہے خواہ اس قدر کہ دوسرے پر بھی اس کا اثر پڑتا ہے ہنوز لغو باتوں اور لغو کاموں اور لغوحرکتوں اور لغو مجلسوں اور لغو تعلقوں اور اغو نفسانی جوشوں سے اس کا دل (۴۴) پاک نہ ہو یعنی ممکن ہے کہ ہنوز معاصی سے اس کو رستگاری نہ ہو کیونکہ خشوع کی حالت کا کرے گا وہ بقدر محنت کشی اور بقدر اپنی سعی کے خدا کو پائے گا۔ اور اس سے تعلق پیدا کر لے گا۔ پس جو شخص خدا کا تعلق حاصل کرنے کے لئے لغو کام چھوڑتا ہے اس کو اس وعدہ کے موافق جو لفظ افلح میں ہے ایک خفیف سا تعلق خدا تعالیٰ سے ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جو اس نے کام کیا ہے وہ بھی بڑا بھاری کام نہیں صرف ایک خفیف تعلق کو جو اس کو لغویات سے تھا چھوڑ دیا ہے اور یادر ہے کہ جیسا کہ لفظ افلح اول آیت میں موجود ہے یعنی اس آیت میں کہ قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خُشِعُونَ ۔ یہی لفظ عطف کے طور پر تمام آئندہ آیتوں سے وعدہ کے طور پر متعلق ہے۔ پس یہ آیت کہ وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ " یہی معنی رکھتی ہے کہ قد افلح المؤمنون الذين هم عن اللغو معرضون اور افلاح یعنی افلح کا لفظ ہر یک مرتبہ ایمان پر ایک خاص معنی رکھتا ہے اور ایک خاص تعلق کا وعدہ دیتا ہے ۔ منہ الاعراف : ۱۷۳ المؤمنون: ٣،٢ المؤمنون: ۴