براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 195
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم سبز کپڑے، بال سر کے لیے، ہاتھ میں تسبیح، آنکھوں سے دمبدم آنسو جاری، لبوں میں کچھ حرکت (۳۹) گویا ہر وقت ذکر الہی زبان پر جاری ہے اور ساتھ اس کے بدعت کی پابندی۔ یہ علامتیں اپنے فقر کی ظاہر کرتے ہیں مگر دل مجذوم محبت الہی سے محروم ۔ الا ماشاء اللہ ۔ راستباز لوگ میری اس تحریر سے مستثنیٰ ہیں جن کی ہر ایک بات بطور جوش اور حال کے ہوتی ہے نہ بطور تکلف اور قال کے۔ بہر حال یہ تو ثابت ہے کہ گریہ وزاری اور خشوع اور خضوع نیک بندوں کے لئے کوئی مخصوص علامت نہیں بلکہ یہ بھی انسان کے اندر ایک قوت ہے جو کل اور بے محل دونوں صورتوں میں حرکت کرتی ہے۔ انسان بعض اوقات ایک فرضی قصہ پڑھتا ہے اور جانتا ہے کہ یہ فرضی اور ایک ناول کی قسم ہے مگر تا ہم جب اس کے ایک دردناک موقعہ پر پہنچتا ہے تو اس کا دل اپنے قابو سے نکل جاتا ہے اور بے اختیار آنسو جاری ہوتے ہیں جو تھمتے نہیں۔ ایسے دردناک قصے یہاں تک مؤثر پائے گئے ہیں کہ بعض وقت خود ایک انسان ایک پُر سوز قصہ بیان کرنا شروع کرتا ہے اور جب بیان کرتے کرتے اس کے ایک پُر درد موقعہ پر پہنچتا ہے تو آپ ہی چشم پر آب ہو جاتا ہے اور اس کی آواز بھی ایک رونے والے شخص کے رنگ میں ہو جاتی ہے آخر اس کا رونا اچھل پڑتا ہے اور جو رونے کے اندر ایک قسم کی سرور اور لذت ہے وہ اس کو حاصل ہو جاتی ہے اور اس کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ جس بنا پر وہ روتا ہے وہ بنا ہی غلط اور ایک فرضی قصہ ہے۔ پس کیوں اور کیا وجہ کہ ایسا ہوتا ہے اس کی یہی وجہ ہے کہ سوز و گداز اور گریہ وزاری کی قوت جو انسان کے اندر موجود ہے اُس کو ایک واقعہ کے صحیح یا غلط ہونے سے کچھ کام نہیں بلکہ جب اس کے لئے ایسے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں جو اس قوت کو حرکت دینے کے قابل ہوتے ہیں تو خواہ نخواہ وہ رقت حرکت میں آجاتی ہے اور ایک قسم کا سرور اور لذت ایسے انسان کو پہنچ جاتا ہے گو وہ مومن ہو یا کافر ۔ اسی وجہ سے غیر مشروع مجالس میں بھی جو طرح طرح کی بدعات پر مشتمل ہوتی ہیں بے قید لوگ جو فقیروں کے لباس میں اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں مختلف قسم کی کافیوں اور