براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 193
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۳ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کہ رقم سے اس نطفہ کا تعلق بھی ہو جائے اور وہ رحم کی طرف کھینچ جائے۔ پس ایساہی روحانی ذوق شوق اور حالت خشوع اس بات کو مستلزم نہیں کہ رحیم خدا سے ایسے شخص کا تعلق ہو جائے اور اس کی طرف کھینچا جائے۔ بلکہ جیسا کہ نطفہ بھی حرام کاری کے طور پر کسی رنڈی کے اندام نہانی میں پڑتا ہے تو اس میں بھی وہی لذت نطفہ ڈالنے والے کو حاصل ہوتی ہے جیسا کہ اپنی بیوی کے ساتھ ۔ پس ایسا ہی بُت پرستوں اور مخلوق پرستوں کا خشوع و خضوع اور حالت ذوق اور شوق رنڈی بازوں سے مشابہ ہے یعنی خشوع اور خضوع مشرکوں اور اُن لوگوں کا جو محض اغراض دنیویہ کی بنا پر خدا تعالیٰ کو یاد کرتے ہیں اس نطفہ سے مشابہت رکھتا ہے جو حرامکار عورتوں کے اندام نہانی میں جا کر باعث لذت ہوتا ہے۔ بہر حال جیسا کہ نطفہ میں تعلق پکڑنے کی استعداد ہے حالت خشوع میں بھی تعلق پکڑنے کی استعداد ہے مگر صرف حالت خشوع اور رقت اور سوز اس بات پر دلیل نہیں ہے کہ وہ تعلق ہو بھی گیا ہے جیسا کہ نطفہ کی صورت میں جو اس روحانی صورت کے مقابل پر ہی مشاہدہ ظاہر کر رہا ہے اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے صحبت کرے اور منی عورت کے اندام نہانی میں داخل ہو جائے اور اس کو اس فعل سے کمال لذت حاصل ہو تو یہ لذت اس بات پر دلالت نہیں کرے گی کہ حمل ضرور ہو گیا ہے۔ پس ایسا ہی خشوع اور سوز و گداز کی حالت گووہ کیسی ہی لذت اور سرور کے ساتھ ہو خدا سے تعلق پکڑنے کے لئے کوئی لازمی علامت نہیں تھے۔ یعنی کسی شخص میں نماز اور یاد الہی کی حالت میں خشوع اور سوز و گداز اور گریہ وزاری پیدا ہونا لازمی طور پر اس بات کو ابتدائی حالت میں خشوع اور رفت کے ساتھ ہر طرح کے لغو کام جمع ہو سکتے ہیں جیسا کہ بچہ میں رونے کی عادت بہت ہوتی ہے اور بات بات میں ڈر جاتا اور خشوع اور انکسار اختیار کرتا ہے مگر با ایں ہمہ بچپن کے زمانہ میں طبعاً انسان بہت سے لغویات میں مبتلا ہوتا ہے اور سب سے پہلے لغو باتوں اور لغو کاموں کی طرف ہی رغبت کرتا ہے اور اکثر لغوحرکات اور لغو طور پر کودنا اور اچھلنا ہی اس کو پسند آتا ہے جس میں بسا اوقات اپنے جسم کو بھی کوئی صدمہ پہنچا دیتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ انسان کی زندگی کی راہ میں فطرتا پہلے لغویات ہی آتے ہیں اور بغیر اس مرتبہ کے طے کرنے کے دوسرے مرتبہ تک وہ پہلی ہی نہیں سکتا۔ پس طبعا پہلا زینہ بلوغ کا بچپن کے لغویات سے پر ہیز کرنا ہے سواس سے ثابت ہے کہ سب سے پہلا تعلق انسانی سرشت کو لغویات سے ہی ہوتا ہے۔ منہ