براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 190

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۹۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ایسا ہی روحانی وجود کے پہلے مرتبہ کے لئے یعنی حالت خشوع کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحیم کی کشش اور تعلق سے پہلے ہی برباد ہو جائے ۔ جیسا کہ بہت سے لوگ ابتدائی حالت میں اپنی نمازوں میں روتے اور وجد کرتے اور نعرے مارتے اور خدا کی محبت میں طرح طرح کی دیوانگی ظاہر کرتے ہیں اور طرح طرح کی عاشقانہ حالت دکھلاتے ہیں اور چونکہ اس ذات ذوالفضل سے جس کا نام رحیم ہے کوئی تعلق پیدا نہیں ہوتا اور نہ اُس کی خاص تجلی کے جذبہ سے اُس کی طرف کھنچے جاتے ہیں اس لئے ان کا وہ تمام سوز و گداز اور تمام وہ حالت خشوع بے بنیاد ہوتی ہے اور بسا اوقات ان کا قدم پھسل جاتا ہے یہاں تک کہ پہلی حالت سے بھی بدتر حالت میں جا پڑتے ہیں۔ پس یہ عجیب دلچسپ مطابقت ہے کہ جیسا کہ نطفہ جسمانی وجود کا اول مرتبہ ہے اور جب تک رحم کی کشش اُس کی دستگیری نہ کرے وہ کچھ چیز ہی نہیں ایسا ہی حالت خشوع روحانی وجود کا (۳۵) اول مرتبہ ہے اور جب تک رحیم خدا کی کشش اُسکی دستگیری نہ کرے وہ حالت خشوع کچھ بھی چیز نہیں۔ اسی لئے ہزار ہا ایسے لوگوں کو پاؤ گے کہ اپنی عمر کے کسی حصہ میں یاد الہی اور نماز میں حالت خشوع سے لذت اٹھاتے اور وجد کرتے اور روتے تھے اور پھر کسی ایسی لعنت نے اُن کو پکڑ لیا کہ ایک مرتبہ نفسانی امور کی طرف گر گئے اور دنیا اور دنیا کی خواہشوں کے جذبات سے وہ تمام حالت کھو بیٹھے۔ یہ نہایت خوف کا مقام ہے کہ اکثر وہ حالتِ خشوع رحیمیت کے تعلق سے پہلے ہی ضائع ہو جاتی ہے اور قبل اس کے کہ رحیم خدا کی کشش اس میں کچھ کام کرے وہ حالت بر با داور نابود ہو جاتی ہے اور ایسی صورت میں وہ حالت جو روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس نطفہ سے مشابہت رکھتی ہے کہ جو رحم سے تعلق پکڑنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔ غرض روحانی وجود کا پہلا مرتبہ جو حالت خشوع ہے اور جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ جو نطفہ ہے با ہم اس بات میں تشابہ رکھتے ہیں کہ جسمانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی نطفہ بغیر کشش رحم کے بیچ ہے اور روحانی وجود کا پہلا مرتبہ یعنی حالت خشوع بغیر جذب رحیم کے بیچ اور جیسا کہ دنیا میں ہزار ہا نطفے تباہ ہوتے ہیں