براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 189
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۹ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جو پانچویں اور چھٹے درجہ میں انسان کامل کیلئے نمودارطور پر ظاہر ہوتے اور اپنے دلکش پیرا یہ میں تجلی فرماتے ہیں کی اور چونکہ وہ نطفہ کی طرح روحانی وجود کا پہلا مرتبہ ہے اس لئے وہ آیت قرآنی میں نطفہ کی طرح پہلے مرتبہ پر رکھا گیا ہے اور نطفہ کے مقابل پر دکھلایا گیا ہے تا وہ لوگ جو (۳۳) قرآن شریف میں غور کرتے ہیں سمجھ لیں کہ نماز میں خشوع کی حالت روحانی وجود کے لئے ایک نطفہ ہے اور نطفہ کی طرح روحانی طور پر انسان کامل کے تمام قومی اور صفات اور تمام نقش و نگار اس میں مخفی ہیں۔ اور جیسا کہ نطفہ اُس وقت تک معرض خطر میں ہے جب تک کہ رحم سے تعلق نہ پکڑے ۔ ایسا ہی روحانی وجود کی یہ ابتدائی حالت یعنی خشوع کی حالت اُس وقت تک خطرہ سے خالی نہیں جب تک کہ رحیم خدا سے تعلق نہ پکڑ لے۔ یادر ہے کہ جب خدا تعالیٰ کا فیضان بغیر توسط کسی عمل کے ہو تو وہ رحمانیت کی صفت سے ہوتا ہے جیسا کہ جو کچھ خدا نے زمین و آسمان وغیرہ انسان کے لئے بنائے یا خود انسان کو بنایا یہ سب فیض رحمانیت سے ظہور میں آیا لیکن جب کوئی فیض کسی عمل اور عبادت اور مجاہدہ اور ریاضت کے عوض میں ہو وہ رحیمیت کا فیض کہلاتا ہے۔ یہی سنت اللہ بنی آدم کے لئے جاری ہے پس جب کہ انسان نماز اور یا دالہی میں خشوع کی حالت اختیار کرتا ہے تب اپنے تئیں رحیمیت کے فیضان کے لئے مستعد بناتا ہے۔ سونطفہ میں اور روحانی وجود کے پہلے مرتبہ میں جو حالت خشوع ہے صرف فرق یہ ہے کہ نطفہ رحم کی کشش کا محتاج ہوتا ہے اور یہ رحیم کی کشش کی طرف احتیاج رکھتا ہے اور جیسا کہ نطفہ کے لئے ممکن ہے کہ وہ رحم کی کشش سے پہلے ہی ضائع ہو جائے۔ ح پانچواں درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی وَالَّذِينَ هُمُ لا مُنْتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رعُونَ ۔ اور چھٹا درجہ جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا عن وَالَّذِينَ هُمْ عَلى صَلوتِهِمْ يُحَافِظُونَ ۔ اور یہ پانچواں درجہ جسمانی درجات کے پنجم درجہ کے مقابل پر ہوتا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے یعنی فَكَسَوْنَا العظمَ لَحْمًا اور چھٹا درجہ جسمانی درجات کے ششم درجہ کے مقابل پر پڑا ہے جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے ثُمَّ انْشَانَهُ خَلْقًا اخر منه ل المؤمنون : ٩ المؤمنون: ١٠ ۲۳ المؤمنون: ۱۵