براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 188 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 188

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۸ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم وہ اُس تخم کی طرح ہے جس نے ہنوز زمین سے کوئی تعلق نہیں پکڑا۔ اور ابھی وہ رحم کی کشش سے بہرہ ور نہیں ہوا ممکن ہے کہ وہ اندام نہانی میں پڑ کر ضائع ہو جائے جیسا کہ تختم بعض اوقات پتھریلی زمین پر پڑا کر ضائع ہو جاتا ہے۔ اور ممکن ہے کہ وہ نطفہ بذاتہ ناقص ہو یعنی اپنے اندر ہی کچھ نقص رکھتا ہو اور قابل نشو و نما نہ ہو۔ اور یہ استعداد اُس میں نہ ہو کہ رحم اس کو اپنی طرف جذب (۳۳) کرلے اور صرف ایک مُردہ کی طرح ہو جس میں کچھ حرکت نہ ہو ۔ جیسا کہ ایک بوسیدہ تم زمین میں بویا جائے۔ اور گوز میں عمدہ ہو گر تا ہم تم بوجہ اپنے ذاتی نقص کے قابل نشو ونما نہیں ہوتا اور ممکن ہے کہ بعض اور عوارض کی وجہ سے جن کی تفصیل کی ضرورت نہیں نطفہ رحم میں تعلق پذیر نہ ہو سکے اور رحم اس کو اپنی کشش سے محروم رکھے۔ جیسا کہ تم بعض اوقات پیروں کے نیچے کچلا جاتا ہے یا پرندے اس کو چنگ جاتے ہیں یا کسی اور حادثہ سے تلف ہو جاتا ہے۔ یہی صفات مومن کے روحانی وجود کے اول مرتبہ کے ہیں اور اول مرتبہ مومن کے روحانی وجود کا وہ خشوع اور رقت اور سوز و گداز کی حالت ہے جو نماز اور یا دالہی میں مومن کو میسر آتی ہے یعنی گدازش اور رقت اور فروتنی اور عجز و نیاز اور روح کا انکسار اور ایک تڑپ اور قلق اور تپش اپنے اندر پیدا کرنا۔ اور ایک خوف کی حالت اپنے پر وارد کر کے خدائے عز وجل کی طرف دل کو جھکانا جیسا کہ اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِيْنَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خُشِعُونَ ۔ یعنی وہ مومن مراد پاگئے جو اپنی نماز میں اور ہر ایک طور کی یاد الہی میں فروتنی اور عجز و نیاز اختیار کرتے ہیں اور رقت اور سوز و گداز اور قلق اور کرب اور دلی جوش سے اپنے رب کے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں۔ یہ خشوع کی حالت جس کی تعریف کا اوپر اشارہ کیا گیا ہے روحانی وجود کی طیاری کے لئے پہلا مرتبہ ہے یا یوں کہو کہ وہ پہلا تخم ہے جو عبودیت کی زمین میں بویا جاتا ہے اور وہ اجمالی طور پر ان تمام قومی اور صفات اور اعضاء اور تمام نقش و نگار اور حسن و جمال اور خط و خال اور شمائل روحانیہ پرمشتمل ہے۔