براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 187 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 187

روحانی خزائن جلد ۲۱۔ IAZ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم (۴) وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَفِظُونَ إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُوْ مِيْنَ فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَبِكَ هُمُ الْعُدُونَ (٥) وَالَّذِيْنَ هُمْ لِاَمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ (۱) وَالَّذِيْنَ هُمْ عَلَى صَلَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ اور ان کے مقابل جسمانی ترقیات کے مراتب بھی چھ قرار دیے ہیں جیسا کہ وہ (۴۳۲ ان آیات کے بعد فرماتا ہے: (۱) ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينِ (٢) ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً (۳) فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً (٤) فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَمًا (۵) فَكَسَوْنَا الْعِظْمَ لَحْمًا (۱) ثُمَّ انْشَأْنَهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ اَحْسَنُ الْخَلِقِينَ جیسا کہ ہم اوپر بیان کر چکے ہیں ظاہر ہے کہ پہلا مرتبہ روحانی ترقی کا یہ ہے جو اس آیت میں بیان فرمایا گیا ہے یعنی قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَشِعُونَ يعني وہ مومن نجات پاگئے جو اپنی نماز اور یاد الہی میں خشوع اور فروتنی اختیار کرتے ہیں اور رقت اور گدازش سے ذکر الہی میں مشغول ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل پر پہلا مرتبہ جسمانی نشو ونما کا جو اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے یہ ہے یعنی ثُمَّ جَعَلْنَهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِيْنِ یعنی پھر ہم نے انسان کو نطفہ بنایا اور وہ نطفہ ایک محفوظ جگہ میں رکھا۔ سوخدا تعالیٰ نے آدم کی پیدائش کے بعد پہلا مرتبہ انسانی وجود کا جسمانی رنگ میں نطفہ کو قرار دیا ہے اور ظاہر ہے کہ نطفہ ایک ایسا ستم ہے جو اجمالی طور پر مجموعہ ان تمام قومی اور صفات اور اعضاء اندرونی اور بیرونی اور تمام نقش و نگار کا ہوتا ہے جو پانچویں درجہ پر مفصل طور پر ظاہر ہو جاتے ہیں اور چھٹے درجہ پر اتم اور اکمل طور پر اُن کا ظہور ہوتا ہے اور با ایں ہمہ نطفہ باقی تمام درجات سے زیادہ تر معرض خطر میں ہے۔ کیونکہ ابھی درجات سے مراد وہ درجے ہیں جو ابھی ذکر کئے گئے ہیں۔ پانچواں درجہ وہ ہے جب قدرت صانع مطلق سے انسانی قالب تمام و کمال رحم میں تیار ہو جاتا ہے۔ اور ہڈیوں پر ایک خوشنما گوشت چڑھ جاتا ہے۔ اور چھٹا درجہ وہ ہے جب اس قالب میں جان پڑ جاتی ہے۔ اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے انسان کے روحانی وجود کا پہلا مرتبہ حالت خشوع اور عجز و نیاز اور سوز و گداز ہے اور در حقیقت وہ بھی اجمالی طور پر مجموعہ ان تمام امور کا ہے جو بعد میں کھلے طور پر انسان کے روحانی وجود میں نمایاں ہوتے ہیں۔ منہ منه ل المؤمنون : ۶ تا ۱۰ المؤمنون : ۱۵،۱۴