براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 180
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۸۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم پس یہ تو ضروری امر تھا کہ احمد بیگ کے داماد کا گر وہ احمد بیگ کی موت کو دیکھ کر اپنے دلوں میں بہت ڈرتا۔ سوخدا نے اپنے وعدہ کے موافق جب ان لوگوں کا خوف دیکھا تو داماد کی وفات کے متعلق جو پیشگوئی تھی اس میں تا خیر ڈال دی۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسا کہ ڈپٹی عبد اللہ آتم اور پنڈت لیکھرام کی نسبت جو پیشگوئی وفات کی تھی اس میں ظہور میں آیا۔ کیونکہ ڈپٹی عبداللہ آتھم نے وفات کی پیشگوئی سن کر بہت خوف ظاہر کیا اس لئے اس کی موت میں تا خیر ڈال دی گئی۔ اور مقرر شدہ دنوں سے کچھ مہینے زیادہ زندہ رہا۔ لیکن لیکھرام نے پیشگوئی کوسن کر بہت شوخی ظاہر کی اور بدگوئی میں حد سے زیادہ بڑھ گیا اس لئے وہ اصلی میعاد سے بھی پہلے ہی اس جہان سے اٹھایا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی پیشگوئیاں جو خدا کے رسول کرتے ہیں جن میں کسی کی موت یا اور بلا کی خبر ہوتی ہے وہ وعید کی پیشگوئیاں کہلاتی ہیں۔ اور سنت اللہ ہے کہ خواہ اُن میں کوئی شرط ہو یا نہ ہو وہ تو یہ استغفار سے مل سکتی ہیں یا اُن میں تا خیر ڈال دی جاتی ہے جیسا کہ یونس نبی کی پیشگوئی میں وقوع میں آیا۔ اور یونس نبی نے جو اپنی قوم کے لئے چالیس دن تک عذاب آنے کا وعدہ کیا تھا وہ قطعی وعدہ تھا۔ اُس میں ایمان لانے یا ڈرنے کی کوئی شرط نہ تھی مگر باوجود اس کے جب قوم نے تضرع اور زاری ۲۲ اختیار کی تو خدا تعالیٰ نے اس عذاب کو ٹال دیا۔ تمام انبیاء علیہم السلام کے اتفاق سے یہ تسلیم شدہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک بلا جو خدا تعالیٰ کسی بندہ پر نازل کرنا ارادہ کرتا ہے وہ بلا صدقہ اور خیرات اور توبہ اور استغفار اور دعا سے دفع ہو سکتی ہے پس اگر وہ بلا جس کا نازل کرنا ارادہ کیا گیا ہے کسی نبی اور رسول اور مامور من اللہ کو اُس سے اطلاع دی جائے تو وہ وعید کی پیشگوئی کہلاتی ہے۔ اور چونکہ وہ بلا ہے اس لئے خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق توبہ و استغفار اور صدقہ خیرات اور دعا وتضرع سے دفع ہو سکتی ہے یا اس میں تا خیر پڑسکتی ہے۔ اور اگر وہ بلا جو پیشگوئی کے رنگ میں ظاہر کی گئی ہے صدقہ خیرات وغیرہ سے دور نہ ہو سکے