براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 174
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۷۴ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہی نہیں۔ اور یہ کچھ نیا طریق نہیں۔ پہلے زمانوں میں بھی وہ لوگ جن کو حق کو قبول کرنا کسی طرح منظور نہ تھا یہی طریق اختیار کرتے آئے ہیں۔ شاید آپ تعصب کے جوش سے یہ بھی اعتراض کر دیں کہ خدا تعالیٰ نے زلزلہ کے آنے کی پانچ ماہ پہلے خبر دی جو احکم ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء کو شائع ہوئی اور پھر زلزلہ کی شدت کی نشانیاں اور اس ۲۰ کا ہولناک نتیجہ پانچ ماہ بعد بذریعہ اپنی وحی کے بیان کیا۔ یکجا کیوں بیان نہ کیا لیکن اگر آپ ایسا اعتراض کریں تو یہ اعتراض بھی نیا نہیں ہوگا بلکہ یہ وہی اعتراض ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے ابو جہل ملعون اور ابولہب ملعون نے قرآن شریف پر کر کے کہا تھا۔ لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةٌ - سوایسا اعتراض تَشابَهَتِ الْقُلُوب میں داخل ہو گا جس سے ایک مسلمان کو پر ہیز کرنا چاہیے۔ قولہ ۔ آپ نے اس الہام میں یہ بھی نہیں بتایا کہ زلزلہ سے مراد کیا ہے۔ اقول ۔ ظاہر وحی الہی میں زلزلہ کا لفظ ہے مگر ایسا زلزلہ جونمونہ قیامت ہوگا بلکہ قیامت کا زلزلہ ہوگا اور یہ کہ اس سے ہزار ہا مکان گریں گے کئی بستیاں نابود ہو جائیں گی اور اس کی نظیر پہلے زمانہ میں نہیں پائی جائے گی۔ اور نا گہانی طور پر ہزار ہا آدمی مرجائیں گے اور ایسا واقعہ ہوگا جو پہلے کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ہو گا۔ پس اس صورت میں مکانوں کا گرنا اور ہزاروں لوگوں کا ایک دفعہ مرجانا اور ایک خارق عادت امر ظاہر ہونا اصل مقصود پیشگوئی ہے۔ اور اگر چہ ظاہر الفاظ پیشگوئی سے زلزلہ سے مراد بلا شبہ زلزلہ ہی سمجھا جاتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے کلام کے ساتھ ادب اسی بات کو چاہتا ہے کہ ہم اصل مقصود کو جو ایک خارق عادت امر ہے اور معجزہ ہے مد نظر رکھیں اور زلزلہ کی کیفیت میں دخل نہ دیں کہ وہ کس طرح کا ہوگا اور کس رنگ کا ہوگا۔ گو ظاہر الفاظ یہی ظاہر کرتے ہیں کہ وہ زلزلہ ہی ہوگا کیونکہ ممکن ہے کہ وہ کوئی اور آفت شدید ہو جس کی نظیر پہلے دنیا میں نہیں دیکھی گئی ۔ اور زلزلہ کی کیفیت اور خاصیت اپنے اندر رکھتی ہو مثلاً الفرقان : ٣٣