براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 172

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۷۲ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے لئے بطور ا رہاص کے ہے۔ اور دوسری عمارتیں بھی گر جائیں گی۔ چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا پس جب کہ ظاہر الفاظ کے رو سے پیشگوئی ظہور میں آگئی تو اب اس سے انکار کرنا جھک مارنا ہے ظاہر الفاظ حق رکھتے ہیں کہ معنی کرنے میں اُن کی رعایت ہو اور صرف عن الظاهر اس وقت سراسر حماقت ہے جب کہ ظاہری صورت میں پیشگوئی کے الفاظ پورے ہو جائیں۔ اگر یہ فقرہ انسان کا افترا ہوتا یعنی یہ فقره که عفت الدیار محلها و مقامها اوراس سے مراد طاعون ہوتی تو ایسا مفتری کبھی یہ فقرہ استعمال نہ کر سکتا کیونکہ اس کو عقل منع کرتی کہ طاعون کی نسبت وہ لفظ استعمال کرے جو طاعون پر صادق نہیں آسکتے کیونکہ طاعون سے عمارتیں نہیں گرتیں اور اگر اجتہاد کے طور پر قبل از وقت صحیح معنے نہ کئے گئے تو اس کا نام اجتہادی غلطی ہے اور بعد از وقت جب حقیقت کھل گئی تب صحیح معنوں کو نہ ماننا اس کا نام شرارت اور بے ایمانی اور ہٹ دھرمی ہے۔ قولہ ۔ ہم تو آپ سے وہ الہام پوچھتے ہیں جس میں آپ نے یہ خبر دی ہو کہ زلزلہ آئے گا لیکن ایسا الہام آپ قیامت تک پیش نہیں کر سکتے ۔ اقول۔ میں کہتا ہوں کہ جس قیامت کو آپ دُور سمجھتے تھے وہ قیامت تو آپ پر آ گئی۔ دیکھو اخبار الحکم صفحہ ۱۵ کالم نمبر ۲ مورخہ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء جس میں تصریح کردی گئی ہے کہ زلزلہ کا دھنگا آئے گا اور پھر پانچ ماہ بعد ۳۱ مئی ۱۹۰۴ء میں اس دھکا کی عظمت اور قوت اس وحی الہی میں بیان فرمائی گئی ہے یعنی یہ کہ عفت الديار محلها و مقامها جس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایسا دھنگا ہو گا جس سے اس ملک پنجاب کی ایک حصہ کی بستیاں تباہ ہو جائیں گی۔ اور عمارتوں کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ خواہ وہ عارضی سکونتیں تھیں جیسا کہ دھرم سالہ اور کانگڑہ میں ہندوؤں کے پوجا کے مندر تھے اور خواہ مستقل سکونتیں تھیں جیسا کہ دھرم سالہ اور کانگڑہ وغیرہ کی مستقل سکونتوں کی جگہ تھیں۔ اب آپ فرمائیے کہ وہ قیامت جس کو آپ بہت دُور سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ایسا الہام تم قیامت تک پیش