براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 171
روحانی خزائن جلد ۲۱ 121 ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم زمانہ ماضی سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی بناء پر یہ امر ہے کہ عام لوگوں کو بھی جو صد ہا کچی خوا میں آتی ہیں تو ان خوابوں میں بھی آئندہ ہونے والی بات کو ماضی کے طور پر بتلایا جاتا ہے۔ مثلاً کسی کے گھر میں جولڑ کا پیدا ہوتا ہے تو دکھلایا جاتا ہے کہ لڑکا پیدا ہو گیا یا لڑکی پیدا ہوگئی یا ایسی چیز اس کو مل گئی جس کی تعبیر لڑکا ہے۔ اور پیشنگوئیوں کو ماضی کے لفظ پر لانا اور پھر مضارع کے معنوں پر استعمال کرنا نہ صرف قرآن شریف میں ہے بلکہ پہلی کتابوں میں بھی یہ محاورہ شائع متعارف ہے اور ایک بچہ بھی انکار نہیں کر سکتا۔ اور حدیثوں میں بھی بکثرت یہ محاورہ موجود ہے۔عن انس رضی الله عنه قال، قال النبي صلى الله عليه وسلم خربت خيبر۔ انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرین خیبر پر فتح پانے سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ خیبر خراب ہو گیا اور ہم جب کسی قوم کے صحن میں اُتریں پس اس قوم کی نا مبارک صبح ہے جو ڈرائی گئی ۔ پس آپ نے اس جگہ ماضی کا صیغہ استعمال کیا ۔ اور مقصود یہ تھا کہ آئندہ خراب ہوگا۔ غرض یہ ایک پیشگوئی تھی جو ماضی کے صیغہ میں کی گئی تھی اور دراصل مضارع کے معنے رکھتی تھی یعنی استقبال کے۔ پس اسی طرح یہ بھی ایک پیشگوئی ہے یعنی عـفـت الـديـار مـحـلـهـا ومقامها جو ماضی کے صیغہ میں ہے اور معنی استقبال کے رکھتی ہے اور جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں الدیار سے مراد ایک حصہ ملک کا ہے جیسا کہ الف لام اس پر دلالت کرتا ہے اسی وجہ سے لبید رضی اللہ عنہ نے بھی الدیار سے مراد عام طور پر دیار مراد نہیں کی بلکہ دیا را حباب مراد لی ہے اور اس جگہ یعنی خدا کی کلام میں جو عـفــت الــدیــار محلهـا و مـقـامـهـا بحل سے مراد ہندوؤں کی قدیم زیارت گاہیں ہیں یعنی وہ مندر ہیں جو قدیم زمانہ سے دھرم سالہ اور کانگڑہ (۱۸) میں موجود تھے جن کی بنیاد کا زمانہ کم سے کم سولہ سو برس ثابت ہے اور مقام سے مراد وہ عمارتیں ہیں جو دائمی سکونت کے لئے اس نواح میں بنائی گئی تھیں اور خدا تعالیٰ نے اس پیشگوئی میں یہ خبر دی تھی کہ وہ مندر یعنی بت خانے بھی گر جائیں گے جن کا گرنا اشاعت توحید