براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 165 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 165

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۵ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم بھی قریب دو ہزار برس تک ایک واقعہ کو نہ دیکھا ہو نہ سنا ہو اور نہ ان کے خیال و گمان میں ہو کہ ﴿۱۲﴾ ایسا واقعہ ہونے والا ہے یا امکان میں ہے پھر اگر کوئی پیشگوئی ایسے واقعہ کی خبر دے اور وہ واقعہ بعینہ ظہور میں آجائے تو وہ خبر نہ صرف معجزہ کہلائے گی بلکہ اول درجہ کا معجزہ ہوگا۔ پھر ہم اصل مطلب کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ معترض صاحب نے ایک عظیم الشان پیشگوئی کی عظمت دُور کرنے کے لئے اور اس کو تمام لوگوں کی نظر میں خفیف ٹھہرانے کیلئے انجیل کی اُس بے معنی پیشگوئی سے اس کو مشابہت دی ہے جس میں محض معمولی الفاظ میں لکھا ہے کہ زلزلے آویں گے۔ لیکن جو شخص ذرا آنکھ کھول کر میرے اشتہارات کی عبارت کو پڑھے گا اس کو افسوس سے کہنا پڑے گا کہ ناحق معترض نے روز روشن پر پردہ ڈالنا چاہا ہے اور ایک بھاری خیانت سے کام لیا ہے۔ اُس نے میرے اشتہارات کو پڑھ لیا ہے اور اس کو خوب علم تھا کہ میری پیشگوئی کے الفاظ جو زلزلہ کی نسبت بیان کئے گئے ہیں وہ انجیل کے الفاظ کی طرح سُست اور معمولی نہیں ہیں تاہم اس نے دانستہ ہٹ دھرمی کو اختیار کر لیا۔ کس کو معلوم نہیں کہ عربی الہام یعنی عفت الديار محلها و مقامها ایک ایسی چونکا دینے والی خبر پیشگوئی کے طور پر بیان کرتا ہے جس سے بدنوں پر لرزہ پڑ جائے کیا یہ ایک معمولی بات ہے کہ شہر اور دیہات زمین میں پھنس جائیں گے اور اُردو میں تصریح کی گئی ہے کہ وہ زلزلہ کا دھکا ہوگا۔ دیکھو اخبار الحکم صفحہ ۱۵ کالم ۲ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ ء اور پھر ۱۹۰۱ء میں جو رسالہ آمین شائع کیا گیا تھا اس میں لکھا گیا ہے کہ وہ ایسا حادثہ ہوگا کہ اس سے قیامت یاد آجائے گی اور الحکم ۲۴ مارچ ۱۹۰۳ء اخبار سول ملٹری گزٹ میں یہ امر تحقیقات شدہ شائع کیا گیا ہے کہ ہندوؤں کا مندر جو کانگڑہ میں زلزلہ سے نابود ہو گیا ہے دو ہزار برس سے یہ مندر چلا آتا تھا۔ پس اگر ایسا زلزلہ پہلے اس سے آیا ہوتا تو یہ عمارتیں پہلے سے ہی نابود ہو ۲۰۰۰ جاتیں۔ منہ ایسا ہی میری کتاب ”مواہب الرحمن، مطبوعہ ۱۹۰۲ء میں ایک سخت زلزلہ کی خبر ہے جس سے عمارتیں گریں گی اور اس میں نہ صرف عمارتوں کے گرنے کا ذکر ہے بلکہ صاف لفظوں میں زلزلہ کا ذکر ہے۔ دیکھو مواہب الرحمن صفحہ ۸۶ ۔ منہ