براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 161

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۱ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم جس کے یہ لفظ ہیں کہ زلزلہ کا دھکا وہ ایسا اعتراض کرنے سے حیا کرے گا کہ پیشگوئی میں زلزلہ کا ذکر نہیں۔ ہاں ہم یہ اب بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں استعارات بھی ہوتے ہیں۔ L☆ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أعمى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أعمى البذا ممکن تھا کہ زلزلہ سے مراد اور کوئی عظیم الشان آفت ہوتی جو پورے طور پر زلزلہ کا رنگ اپنے اندر رکھتی۔ مگر ظاہر عبارت به نسبت تاویل کے زیادہ حق رکھتی ہے پس در اصل اس پیشگوئی کا حلقہ وسیع تھا لیکن خدا تعالیٰ نے دشمنوں کا منہ کالا کرنے کے لئے ظاہر الفاظ کی رو سے بھی اس کو پورا کر دیا۔ اور ممکن ہے کہ بعد اس کے بعض حصے اس پیشگوئی کے کسی اور رنگ میں بھی ظاہر ہوں لیکن بہر حال وہ امر خارق عادت ہوگا جس کی نسبت یہ پیشگوئی ہے چنانچہ یہی زلزلہ جس نے اس قدر پنجاب میں نقصان پہنچایا اس کی نسبت تحقیقات کی رو سے سول ملٹری گزٹ وغیرہ ۱۶۰۰ اخبارات میں شائع ہو چکا ہے اور یہ امر ثابت ہو چکا ہے کہ سولہ سو برس تک اس ملک پنجاب میں ایسا کوئی زلزلہ نہیں آیا۔ پس یہ پیشگوئی بلا شبہ اول درجہ کی خارق عادت امر کی خبر دیتی ہے۔ اور ممکن ہے کہ اس کے بعد بھی کچھ ایسے حوادث مختلف اسباب طبعیہ سے ظاہر ہوں جو ایسی تباہیوں کے موجب ہو جائیں جو خارق عادت ہوں پس اگر اس پیشگوئی کے کسی حصہ میں زلزلہ کا ذکر بھی نہ ہوتا تب بھی یہ عظیم الشان نشان تھا کیونکہ مقصود تو اس پیشگوئی میں ایک خارقِ عادت تباہی مکانوں اور جگہوں کی ہے جو بے مثل ہے زلزلہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے پس جب کہ یہ شہادت مل چکی کہ سولہ سو برس تک اس تباہی کی ملک پنجاب میں نظیر نہیں پائی جاتی تو یہ پیشگوئی ایک معمولی امر نہ رہا جو صرف انسانی انکل سے ہو سکتا ہے پھر جبکہ اس پیشگوئی کے (9) ہیں اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جو شخص اس جہان میں اندھا ہے وہ دوسرے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا یعنی جس کو خدا کا دیدار اس جگہ نہیں اُس جگہ بھی نہیں۔ اس آیت کے یہ معنے نہیں ہیں کہ جو بیچارے جسمانی طور پر اس جہان میں اندھے ہیں وہ دوسرے جہان میں بھی اندھے ہی ہوں گے۔ پس یہ استعارہ ہے کہ جاہل کا نام اندھا رکھا گیا۔ منہ بنی اسرائیل : ۷۳