براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 160
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۶۰ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم فرما دیں کہ کیا یہ قرآنی آیات ماضی کے صیغے ہیں یا مضارع کے اور اگر ماضی کے صیغے ہیں تو ان کے معنے اس جگہ مضارع کے ہیں یا ماضی کے جھوٹ بولنے کی سزا تو اس قدر کافی ہے کہ آپ کا حملہ صرف میرے پر حملہ نہیں بلکہ یہ تو قرآن شریف پر بھی حملہ ہو گیا گویا وہ صرف ونحو جو آپ کو معلوم ہے خدا کو معلوم نہیں۔ اسی وجہ سے خدا نے جابجا غلطیاں کھائیں اور مضارع کی جگہ ماضی کو لکھ دیا۔ پھر اس کے ساتھ آپ کا ایک اور اعتراض بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس پیشگوئی یعنی عفت الديار محلها و مقامها میں زلزلہ کا لفظ کہاں ہے۔ افسوس اس معترض کو یہ معلوم نہیں کہ مقصود بالذات تو پیشگوئی کا اسی قدر مفہوم ہے جو الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے غرض تو صرف اتنی ہے کہ ایک حصہ ملک پر بڑی تباہی آئے گی ۔ اس جگہ دانا خود سمجھ سکتا ہے کہ مکانات کا تباہ ہونا بذریعہ زلزلہ ہی ہوا کرتا ہے۔ ہاں ممکن ہے کہ یہ عظیم الشان ملک کی تباہی اور شہروں اور مکانات کا نابود ہو جانا کسی اور ذریعہ سے ظہور میں آوے مگر تب بھی بہر حال یہ پیشگوئی سچی ثابت ہوگی۔ اور چونکہ سنت اللہ کے موافق اس تباہی کو زلزلہ پر دلالت التزامی ہے اس لئے اس کا ذکر کرنا ضروری نہ تھا لیکن چونکہ خدا تعالیٰ جانتا تھا کہ بعض کم فہم جن کی فطرت نادانی اور تعصب کی معجون ہے ایسا اعتراض بھی کریں گے اس لئے اُس نے زلزلہ کا لفظ بھی بتفریح لکھ دیا۔ دیکھو پر چہ احکام مورخہ ۲۴ / دسمبر ۱۹۰۳ء اور اگر چہ یہ پیشگوئی زلزلہ کی پیشگوئی سے الگ کر کے جو اس سے پہلے شائع ہو چکی ہے صرف اس قدر بتاتی ہے کہ اس ملک کے بعض حصے تباہ ہو جائیں گے اور سخت تباہی آئے گی اور عمارات نابود ہو جائیں گی اور بستیاں کالعدم ہو جائیں گی ۔ اور یہ نہیں بتلاتی کہ کس خاص ذریعہ سے یہ تباہیاں وقوع میں آئیں گی ۔ لیکن جو شخص سوچے گا کہ شہر اور بستیاں کس ذریعہ سے زمین میں دھنسا کرتی ہیں اور یک دفعہ عمارتیں کیونکر گر جاتی ہیں اور اس پیشگوئی کے ساتھ اس پیشگوئی کوبھی پڑھے گا جو اس پر چہ میں پانچ ماہ پہلے شائع ہوچکی ہے۔