براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 157

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۷ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ہیں کہ ایک حصہ ملک کا ایسا تباہ ہو جائے گا کہ اس کی عمارتیں سب نابود ہو جائیں گی نہ سرائیں باقی رہیں گی نہ مستقل سکونت کی جگہ۔ اس جگہ ادنی عربی دان بھی الدیار کے الف لام کو ذہن میں رکھ کر سمجھ سکتا ہے کہ الدیار سے ایک حصہ اس ملک کا مراد ہے اور عفت کے لفظ سے یہی مطلب ہے کہ اس حصہ ملک کے سب مکانات گر جائیں گے نابود ہو جائیں گے نا پدید ہو جائیں گے کیو پس کوئی مجھ کو سمجھا دے کہ اس ملک کے لئے ایسا واقعہ پہلے اس سے کب پیش آیا تھا ورنہ ایمانداری (۵) سے بعید ہے کہ انسان بے حیا ہو کر جھوٹ بولے اور اس خدا کا خوف نہ کرے جس کا ہاتھ ہر ایک وقت سزادینے پر قادر ہے۔ اور پھر اشتہار الوصیت میں جو ۲۷ فروری ۱۹۰۵ء میں زلزلہ سے پہلے شائع کیا گیا تھا یہ عبارت درج ہے۔ اس وقت جو آدھی رات کے بعد چار بج چکے ہیں بطور کشف میں نے دیکھا ہے کہ دردناک موتوں سے عجیب طور پر شور قیامت برپا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی الہام ہوا کہ موتا موتی لگ رہی ہے اب سوچو کہ کیا ایک آئندہ واقعہ کی ان الفاظ سے پیشگوئی کرنا کہ وہ نمونہ قیامت ہوگا۔ اور شور قیامت اس سے برپا ہوگا وہ پیشگوئی اس پیشگوئی سے مساوی ہوسکتی ہے جو معمولی الفاظ میں کہا جائے جو زلزلے آویں گے۔ خاص کر شام جیسے ملک میں جو اکثر زلزلوں اور طاعون کی جگہ ہے اگر خدا تعالیٰ کا خوف ہو تو خدائے تعالیٰ کی پیشگوئی کے انکار میں اس قدر دلیری کیونکر ہو۔ یہ میرے پر حملہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ پر حملہ ہے جس کا وہ کلام ہے اور یہ کہنا کہ عَفَتِ الديار محلّها و مقامها یه لبید بن ربیعہ کے ایک بیت کا پہلا مصرعہ ہے ہیں اگر کسی کو ان معنوں میں شک ہو تو اسے اللہ تعالیٰ کی قسم ہے کہ کسی مخالف عربی دان کو قسم دے کر پوچھ لے کہ کیا اس الہام غصب الدیار میں عمارتوں کا گرنا ۔ نابود ہو جانا اور ایسے مکانات کا گرنا جو عارضی آمد و رفت کے لئے مقرر ہوتے ہیں جیسا کہ دھرم سالہ اور کانگڑہ کے پہاڑ کی لاٹاں والی کا مندر یا دائمی بود و باش کے مکانات کارگر نا ثابت نہیں ہوتا ؟ ظاہر ہے کہ ایسے کھلے طور پر ثابت ہوتا ہے جس سے آگے تو ضیح کی ضرورت نہیں ۔ منہ