براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 156
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۶ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم کے طور پر ملک میں شائع کئے ایسی ہی معمولی خبر پائی جاتی ہے جس میں کوئی امر خارق عادت نہیں۔ اگر در حقیقت ایسا ہی ہے تو پھر زلزلہ کی نسبت میری پیشگوئی بھی ایک معمولی بات ہوگی۔ زلزلہ کی نسبت میرے اشتہارات کے الفاظ یہ ہیں۔ یکم مئی ۱۹۰۴ء میں مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وحی ہوئی تھی جس کو میں نے اخبار الحکم اور البدر میں شائع کرا دیا تھا۔ عــفــت الـديـار محلّها ومقامها - یعنی اس ملک کا ایک حصہ مٹ جائے گا۔ اس کی وہ عمارتیں جو عارضی سکونت کی جگہ ہیں اور وہ عمارتیں جو مستقل سکونت کی جگہ ہیں دونوں نا بود ہو جائیں گی ان کا نام ونشان نہیں رہے گا۔ اور الدیار پر جو الف لام ہے وہ دلالت کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کے علم میں اس ملک میں سے وہ خاص خاص جگہ ہیں جن پر یہ تباہی آئے گی اور وہ خاص حصہ ملک کے مکانات ہیں جو زمین سے برابر ہو جائیں گے۔ یہ کس قدر فوق العادت پیشگوئی ہے اور کس شد و مد سے اس میں آئندہ واقعہ کا ذکر ہے جس کی سولہ سو برس تک بھی اس ملک میں نظیر نہیں پائی جاتی۔ چنانچہ انگریزی اخباروں کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ بڑے بڑے طبقات الارض کے محقق اس ملک کی نسبت یہ فوق العادت واقعہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ یورپ کے بڑے بڑے محققوں کی شہادت سے شائع ہو چکا ہے کہ سولہ سو برس تک بھی پنجاب میں اس زلزلہ کی نظیر نہیں پائی جاتی اور تمام اخبار میں اس مضمون سے بھری پڑی ہیں کہ یہ زلزلہ نمونہ قیامت تھا۔ پس جبکہ اُس وحی الہی میں جو میرے پر ہوئی یہ فوق العادت مضمون ہے کہ اس حادثہ سے عمارتیں نابود ہو جائیں گی اور ایک حصہ اس ملک کا تباہ ہو جائے گا تو پھر نہایت افسوس ہے کہ ایسی عظیم الشان پیشگوئی کو جو ایک ملک کے تباہ ہونے کی خبر دیتی ہے انجیل کی ایک معمولی خبر کے برابر ٹھہرایا جائے جو زلزلے آئیں گے اور وہ بھی اُس ملک میں جو زلزلوں کا گھر ہے کیا کسی پیشگوئی کے اس سے زیادہ الفاظ ڈرانے والے ہو سکتے ہیں۔ ہر ایک منصف مزاج خود سوچ لے کہ کیا اس ملک پنجاب کے لئے زلزلہ کی پیشگوئی کے الفاظ اس سے زیادہ فوق العادت ہو سکتے ہیں جو وحی ربانی عفت الديار محلّها و مقامها میں پائے جاتے ہیں ۔ جس کے یہ معنے