براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 155
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۵۵ حضرت مسیح کی لکھی گئی تو غالبا اس وقت بھی کوئی زلزلہ آرہا ہوگا۔ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم اب ہم ذیل میں وہ پیشگوئی لکھتے ہیں جو زلزلہ آنے کی نسبت انجیل متی میں لکھی گئی ہے جس کو حضرت عیسی علیہ السلام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے ۔ قوم قوم پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھ آوے گی اور کال اور مری پڑے گی اور جگہ جگہ بھونچال آویں گے۔ دیکھو انجیل متی باب ۲۴۔ یہی پیشگوئی ہے جس کی نسبت میں نے ازالہ اوہام میں وہ عبارت لکھی ہے جو معترض نے اخبار مذکور کے صفحہ پانچ کالم اول سطر چھبیس میں درج کی ہے اور وہ یہ ہے۔ کیا یہ بھی کچھ پیشگوئیاں ہیں کہ زلزلے آئیں گے مری پڑے گی لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے۔ معترض صاحب میری اس عبارت کو لکھ کر اس سے یہ بات نکالتے ہیں کہ گویا میں نے یہ اقرار کیا ہے کہ زلزلہ کی نسبت پیشگوئی کرنا کوئی قابل وقعت چیز نہیں اور ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت سے میرا یہ مدعا نہیں ہے جو معترض نے سمجھا ہے بلکہ یہ غرض ہے کہ معمولی طور پر ایک بات کو پیش کرنا جس میں کوئی امجو بہ نہیں اور جس میں کوئی فوق العادت امر نہیں پیشگوئی کے مفہوم میں داخل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً اگر کوئی پیشگوئی کرے کہ برسات کے دنوں میں کچھ نہ کچھ بارشیں ہوں گی تو یہ پیشگوئی نہیں کہلا سکتی کیونکہ عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ برسات کے مہینوں میں کچھ نہ کچھ بارشیں ہو جایا کرتی ہیں۔ ہاں اگر کوئی یہ پیشگوئی کرے کہ اب کی دفعہ برسات کے دنوں میں اس قدر بارشیں ہوں گی کہ زمین میں سے چشمے جاری ہو جائیں گے اور کو ئیں پُر ہو کر نہروں کی طرح بہنے لگیں گے اور گذشتہ سو برس میں ایسی بارش کی کوئی نظیر نہیں ہوگی تو اس کا نام ضرور ایک امر خارق عادت اور پیش گوئی رکھا جائے گا سواسی اصول کے لحاظ سے میں نے انجیل متی بات کی پیشگوئی پر اعتراض کیا تھا کہ صرف اتنا کہہ دینا کہ زلزلے آئیں گے خاص کر اس ملک میں جس میں ہمیشہ زلزلے آیا کرتے ہیں بلکہ سخت زلزلے بھی آتے ہیں یہ کوئی ایسی خبر نہیں ہے جس کا نام پیشگوئی رکھا جائے یا اس کو ایک امر خارق عادت ٹھہرایا جائے۔ اب دیکھنا چاہیئے کہ کیا اُن ہر سہ اشتہارات میں بھی جو میں نے زلزلہ کی نسبت پیشگوئی