براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 149
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۹ براہین احمدیہ حصہ پنجم یہ فتوحات نمایاں یہ تواتر سے نشاں کیا یہ ممکن ہیں بشر سے کیا یہ مکاروں کا کار ایسی سرعت سے یہ شہرت نا گہاں سالوں کے بعد کیا نہیں ثابت یہ کرتی صدق قول کردگار کچھ تو سوچو ہوش کر کے کیا یہ معمولی ہے بات جس کا چرچا کر رہا ہے ہر بشر اور ہر دیار مٹ گئے حیلے تمہارے ہوگئی حجت تمام اب کہو کس پر ہوئی اے منکر و لعنت کی مار بندہ درگاہ ہوں اور بندگی سے کام ہے کچھ نہیں ہے فتح سے مطلب نہ دل میں خوف ہار مت کرو بک بک بہت ۔ اُس کی دلوں پر ہے نظر دیکھتا ہے پاکی ءِ دل کو نہ باتوں کی سنوار کیسے پتھر پڑ گئے ہے ہے تمہاری عقل پر دیں ہے منہ میں گرگ کے تم گرگ کے خود پاسدار ہر طرف سے پڑ رہے ہیں دین احمد پر تبر کیا نہیں تم دیکھتے قوموں کو اور اُن کے وہ وار کون سی آنکھیں جو اس کو دیکھ کر روتی نہیں کون سے دل ہیں جو اس غم سے نہیں ہیں بیقرار کھا رہا ہے دیں طمانچے ہاتھ سے قوموں کے آج اک تزلزل میں پڑا اسلام کا عالی منار یہ مصیبت کیا نہیں پہنچی خدا کے عرش تک کیا یہ شمس الدیں نہاں ہو جائے گا اب زیر غار جنگ روحانی ہے اب اس خادم و شیطان کا دل گھٹا جاتا ہے یارب سخت ہے یہ کارزار ہر نبئ وقت نے اس جنگ کی دی تھی خبر کر گئے وہ سب دعائیں بادو چشم اشکبار اے خدا شیطاں پہ مجھ کو فتح دے رحمت کے ساتھ وہ اکٹھی کر رہا ہے اپنی فوجیں بے شمار خدا پہ فتح جنگ یہ بڑھ کر ہے جنگ روس اور جاپان ۔ ے میں غریب اور ہے مقابل پر حریف نامدار ۱۱۹ دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل سوچ کر اے مری جاں کی پنہ فوج ملائک کو اتار بستر راحت کہاں ان فکر کے ایام میں غم سے ہر دن ہو رہا ہے بد تر از شب ہائے تار لشکر شیطاں کے نرغے میں جہاں ہے گھر گیا بات مشکل ہوگئی قدرت دکھا اے میرے یار نسلِ انساں سے مدد اب مانگنا بے کار ہے اب ہماری ہے تری درگاہ میں یارب پکار