براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 148
روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۸ برا این احمدیہ حصہ پنجم غل مچاتے ہیں کہ یہ کافر ہے اور دجال ہے پاک کو ناپاک سمجھے ہو گئے مردار خوار گو وہ کافر کہہ کے ہم سے دُور تر ہیں جاپڑے اُن کے غم میں ہم تو پھر بھی میں حزین و دلفگار ہم نے یہ مانا کہ اُن کے دل ہیں پھر ہو گئے پھر بھی پتھر سے نکل سکتی ہے دینداری کی نار کیسے ہی وہ سخت دل ہوں ہم نہیں ہیں نا امید آیت لَا تَنسُوا رکھتی ہے دل کو استوار پیشہ ہے رونا ہمارا پیش ربّ ذوالمنن یہ شجر آخر کبھی اس نہر سے لائیں گے بار جن میں آیا ہے مسیح وقت وہ منکر ہوئے مرگئے تھے اس تمنا میں خواص ہر دیار میں نہیں کہتا کہ میری جاں ہے سب سے پاک تر میں نہیں کہتا کہ یہ میرے عمل کے ہیں شمار میں نہیں رکھتا تھا اس دعوے سے اک ذرہ خبر کھول کر دیکھو براہیں کو کہ تا ہو اعتبار گر کہے کوئی کہ یہ منصب تھا شایانِ قریش وہ خدا سے پوچھ لے میرا نہیں یہ کاروبار ۱۱۸ مجھ کو بس ہے وہ خدا عہدوں کی کچھ پروا نہیں ہو سکے تو خود بنو مهدی بحکم کردگار افترا لعنت ہے اور ہر مفتری ملعون پھر لعیں وہ بھی ہے جو صادق سے رکھتا ہے نقار ہے تشنہ بیٹھے ہو کنار جوئے شیریں حیف ہے سر زمین ہند میں چلتی ہے نہر خوشگوار ان نشانوں کو ذرہ سوچو کہ کس کے کام ہیں کیا ضرورت ہے کہ دکھلاؤ غضب دیوانہ وار مفت میں ملزم خدا کے مت بنو اے منکرو یہ خدا کا ہے نہ ہے یہ مفتری کا کاروبار اب تک کئی ہزار خدا تعالیٰ کے نشان میرے ہاتھ پر ظاہر ہو چکے ہیں۔ زمین نے بھی میرے لئے نشان دکھلائے اور آسمان نے بھی اور دوستوں میں بھی ظاہر ہوئے اور دشمنوں میں بھی جن کے کئی لاکھ انسان گواہ ہیں اور ان نشانوں کو اگر تفصیلاً جدا جدا شمار کیا جائے تو قریباً وہ سارے نشان دس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِک مِنه