براہین احمدیہ حصہ پنجم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 506

براہین احمدیہ حصہ پنجم — Page 146

روحانی خزائن جلد ۲۱ ۱۴۶ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۱۱۶ سے ہائے یہ کیا ہو گیا عقلوں پہ کیا پتھر پڑے ہو گیا آنکھوں کے آگے اُن کے دن تاریک و تار یا کسی مخفی گناہ سے شامت اعمال ہے جس سے عقلیں ہو گئیں بیکار اور اک مُردہ وار گردنوں پر اُن کی ہے سب عام لوگوں کا گناہ جن کے وعظوں سے جہاں کے آگیا دل میں غبار ایسے کچھ سوئے کہ پھر جاگے نہیں ہیں اب تلک ایسے کچھ بھولے کہ پھر نسیاں ہوا گردن کا ہار نوع انساں میں بدی کا تختم ہونا ظلم ہے وہ بدی آتی ہے اُس پر جو ہو اُس کا کاشتکار چھوڑ کر فرقاں کو آثار مخالف پر جسے سر پہ مسلم اور بخاری کے دیا ناحق کا بار جبکہ ہے امکان کذب و سکج روی اخبار میں پھر حماقت ہے کہ رکھیں سب انہی پر انحصار جبکہ ہم نے نور حق دیکھا ہے اپنی آنکھ جب که خود وحی خدا نے دی خبر یہ بار بار پھر یقیں کو چھوڑ کر ہم کیوں گمانوں پر چلیں خود کہو رویت ہے بہتر یا نقول پر غبار تفرقہ اسلام میں نقلوں کی کثرت سے ہوا جس سے ظاہر ہے کہ راہ نقل ہے بے اعتبار نقل کی تھی اک خطا کاری مسیحا کی حیات جس سے دیں نصرانیت کا ہو گیا خدمت گذار صد ہزاراں آفتیں نازل ہوئیں اسلام پر ہو گئے شیطاں کے چیلے گردنِ دیں پر سوار موت عیسی کی شہادت دی خدا نے صاف صاف پھر احادیث مخالف رکھتی ہیں کیا اعتبار گر گماں صحت کا ہو پھر قابل تاویل ہیں کیا حدیثوں کے لئے فرقاں پہ کر سکتے ہو وار وہ خدا جس نے نشانوں سے مجھے تمغہ دیا اب بھی وہ تائید فرقاں کر رہا ہے بار بار سر کو پیٹ! آسماں سے اب کوئی آتا نہیں عمر دنیا سے بھی اب ہے آگیا ہفتم کہہزار کتب سابقہ اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ عمر دنیا کی حضرت آدم علیہ السلام سے سات ہزار برس تک ہے اسی کی طرف قرآن شریف اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے کہ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَالْفِ سَنَةٍ ممَّا تَعُدُّونَ ا یعنی خدا کا ایک دن تمہارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے میرے دل پر الحج : ۴۸